Inquilab Logo Happiest Places to Work

تاریخی ورالا تالاب آلودگی کا شکار، مقامی افراد نے خود انتظام سنبھالنے کا انتباہ دیا

Updated: May 12, 2026, 9:56 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی عروج پر،سیوریج کے پانی سے تالاب آلودہ، پینے کے پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔

Varala Pond Is Suffering From Increasing Pollution And Deterioration.Photo:INN
ورالا تالاب بڑھتی آلودگی اور خستہ حالی کا شکار ہے-تصویر:آئی این این
 ضلع کی بیشتر میونسپل کارپوریشنوں کے پاس اپنا قدرتی آبی ذخیرہ موجود نہیں ہے مگر بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو ورالا تالاب جیسی قیمتی نعمت حاصل ہونے کے باوجود انتظامیہ کی لاپروائی نے اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ تالاب کی خستہ حالی، بڑھتی آلودگی اور انتظامیہ کی بے حسی سے ناراض کامت گھر کے مقامی افراد نے اب خود تالاب کا انتظام سنبھالنے اور اس پر قبضہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔
یہ مسئلہ میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں اس وقت شدت سے اٹھایا گیا جب سابق ڈپٹی میئر اور مقامی کارپوریٹر منوج کاٹیکر نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ورالا تالاب نہ صرف شہر کو روزانہ ۵؍ ایم ایل ڈی پانی فراہم کرتا تھا بلکہ بھیونڈی کی شناخت اور سیاحتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۶۵ء سے اس تالاب کے ذریعے ابتدا میں ۲؍ ایم ایل ڈی پانی شہر کو فراہم کیا جاتا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر ۵؍ ایم ایل ڈی کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اطراف کی آبادیوں کا سیوریج کا گندا پانی مسلسل تالاب میں چھوڑا جارہا ہے، جس کے سبب اس کا پانی شدید آلودہ ہوچکا ہے اور پورا تالاب سبز کائی سے بھر گیا ہے۔
 
 
مقامی شہریوں نے کئی مرتبہ شکایت کرتے ہوئے تالاب کی صفائی اور سیوریج بند کرنے کا مطالبہ کیا مگر میونسپل انتظامیہ کی جانب سے صرف یقین دہانیاں دی جاتی رہیں اور عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ آلودگی اس حد تک بڑھ گئی کہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے تالاب کے پانی کو پینے کے قابل نہیں مانا، جس کے بعد یہاں سے پانی کی سپلائی بھی بند کردی گئی۔
منوج کاٹیکر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر تالاب کی صفائی اور تحفظ کے لئے ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو کامت گھر کے مقامی افراد خود اس تالاب کا قبضہ سنبھال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے اپنی مدد آپ کے تحت تالاب کی صفائی، دیکھ بھال اور تحفظ کا کام انجام دیں گے اور یہاں مچھلی پروری شروع کر کے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میونسپل کارپوریشن کو بھی فراہم کریں گے۔
 
 
انہوں نے مزید کہا کہ ۱۹۸۲ء میں کامت گھر علاقہ میونسپل حدود میں شامل ہونے کے بعد تالاب کا اختیار بلدیہ کو دیا گیا تھا مگر گزشتہ کئی برسوں میں تالاب کے اطراف تعمیر حفاظتی دیواریں اور ریلنگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی فنڈ یا منصوبہ سامنے نہیں آیا جس کے سبب مقامی شہریوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK