Updated: May 11, 2026, 9:58 PM IST
| Tehran
آرمینیا میں ایران کے سفارت خانے نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری Karoline Leavitt کی ایک ذاتی پوسٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ لیویٹ نے اپنی نومولود بچی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا تھا، جس کے جواب میں ایرانی سفارت خانے نے جنوبی ایران کے مناب علاقے میں ایک اسکول پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب آپ اپنے بچے کو چومتی ہیں تو ان بچوں کی ماؤں کے بارے میں سوچیں۔‘‘
تصویر، جس پر ایران نے تنقید کی ہے۔ تصویر: ایکس
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب لیویٹ نے اپنے ایکس پر اپنے نومولود بچی ’’ویویانا‘‘ کی پیدائش پر جذباتی پیغام شیئر کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کی بیٹی یکم مئی کو پیدا ہوئی اور پورا خاندان خوشی سے بھر گیا۔ انہوں نے اسے ’’کامل اور صحت مند‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے خاندان اور حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔ لیویٹ نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’خدا بہترین ہے‘‘، اور بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے نے بھی اپنی نئی بہن کے ساتھ زندگی کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور
تاہم اس پوسٹ کے جواب میں آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے ایک سخت بیان جاری کیا جس میں جنوبی ایران کے صوبہ مناب میں ہونے والے مبینہ امریکی حملے کا حوالہ دیا گیا۔ سفارت خانے نے لکھا، ’’بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ وہ ۱۶۸؍ بچے جنہیں آپ کے ’’باس‘‘ نے مناب کے اسکول میں مارا، وہ بھی بچے تھے۔ جب آپ اپنے بچے کو چومتی ہیں تو ان بچوں کی ماؤں کے بارے میں سوچیں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق یہ بیان فروری میں ایران پر ہونے والے مبینہ امریکی اسرائیلی فضائی حملوں کے تناظر میں دیا گیا، جن میں مناب کے ایک اسکول کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بڑی تعداد میں بچے ہلاک ہوئے جبکہ امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلی عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اطلاعات کے مطابق حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکی انٹیلی جنس کو شبہ تھا کہ اسکول کے قریب موجود عمارت فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا
یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی سفارت خانوں نے اس واقعے کا حوالہ دیا ہو۔ مارچ کے آخر میں متعدد ایرانی سفارت خانوں نے امریکی بحریہ کے دو افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے حملوں کی منظوری دی تھی۔ ان پوسٹس میں ٹیٹ لے اور یارک جیفری کے نام شامل تھے، جنہیں ایرانی سفارت خانوں نے ’’حملوں کے ذمہ دار‘‘ قرار دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی سفارت خانے کا یہ غیر معمولی لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ اب صرف عسکری یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ ذاتی اور جذباتی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: آئین میں ترمیم، کم جونگ ان کے قتل کی صورت میں جوہری حملہ لازمی
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ایرانی بیان کو ’’سخت مگر علامتی‘‘ قرار دیا، جبکہ دیگر نے بچوں اور خاندانوں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے پر تنقید کی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں جنگی کارروائیوں، فضائی حملوں اور باہمی الزامات نے ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف سفارتی کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر عوامی رائے کو بھی متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر جب جنگی نقصانات اور شہری ہلاکتوں کا معاملہ سامنے آئے۔