Updated: July 31, 2026, 10:09 PM IST
| New Delhi
ہاکی ٹیم کی جرسی کے اس نئے رنگ پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ سابق کپتان ویرین راسکنہا نے کہا تھا کہ ٹیم کا ”ورثہ اور شناخت“ طویل عرصے سے نیلی جرسی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہاکی انڈیا نے جمعرات کے روز کہا کہ یہ تبدیلی تکنیکی خدشات کے حوالے سے کھلاڑیوں اور عملے سے مشورہ کرنے کے بعد کی گئی ہے۔
ہاکی ٹیم کی نئی زعفرانی جرسی۔ تصویر: ایکس
ہاکی انڈیا کے صدر دلیپ تِرکی نے ورلڈکپ سے قبل قومی ٹیم کی نیلی جرسی کو زعفرانی رنگ سے بدلنے کے فیصلے پر کھیل کی نیشنل گورننگ باڈی سے باضابطہ وضاحت طلب کی ہے۔ ترکی نے کہا کہ اس تبدیلی کو نافذ کرنے سے پہلے ایگزیکٹیو بورڈ سے مشورہ نہیں لیا گیا تھا۔
جرسی کے اس نئے رنگ پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد ہاکی انڈیا نے جمعرات کے روز کہا کہ یہ تبدیلی تکنیکی خدشات کے حوالے سے کھلاڑیوں اور عملے سے مشورہ کرنے کے بعد کی گئی ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ نیلی جرسی بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والی نیلے رنگ کی مصنوعی ترپال کے ساتھ مل جاتی تھی، جس سے کھلاڑیوں کے نظر آنے کی صلاحیت متاثر ہوتی تھی اور کھلاڑیوں و کوچز نے زعفرانی اور پیلے رنگ سمیت دیگر متبادلات کی تجویز دی تھی۔ نئی جرسی میں تاریک پیٹرن بھی شامل ہیں جن کا مقصد ”ہندوستان کے امیر ثقافتی ورثے کا جشن بنانا“ اور ”ایک بھارت، شریشٹھ بھارت“ کے جذبے کی عکاسی کرنا ہے۔ اسے اگست میں بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے مردوں اور خواتین کے ورلڈ کپ سے قبل لانچ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ: مودی سے متعلق قابلِ اعتراض پوسٹس، میٹا انڈیا ہیڈ کے خلاف ایف آئی آر
تِرکی نے جمعہ کے روز ایگزیکٹیو بورڈ کے اراکین اور ہاکی انڈیا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آر کے سریواستو کو دو ای میلز بھیجیں جن میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بورڈ کے سامنے رکھے بغیر یا ان کے علم میں لائے بغیر کیا گیا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میری تشویش خود زعفرانی رنگ کے انتخاب سے نہیں ہے۔“ اور مزید کہا کہ قومی ٹیم کی شناخت سے جڑے اتنے اہم فیصلے پر سب سے پہلے منتخب قیادت کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اس مسئلے نے ”میڈیا کی کافی توجہ اور بدقسمتی سے کچھ حلقوں میں سیاسی تعبیرات“ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ورلڈ کپ کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رکھنے کیلئے عوامی طور پر اسے ”خالصتاً کھیل کا فیصلہ“ قرار دیا تھا۔
تِرکی نے یہ بھی کہا کہ اوڈیشہ حکومت نے ان سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے سریواستو سے کہا کہ وہ جمعہ کی شام ۵ بجے تک ایگزیکٹیو بورڈ کے اراکین کو ایک نوٹ پیش کریں جس میں اس فیصلے کی منطق اور منظوری کا طریقۂ کار تفصیل سے درج ہو۔
یہ بھی پڑھئے: جادوپور یونیورسٹی: بُک اسٹال کی کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دے کر جلانے کی دھمکی
واضح رہے کہ یہ تنازع، قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ویرین راسکنہا کی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ٹیم کا ”ورثہ اور شناخت“ طویل عرصے سے نیلی جرسی سے جڑی ہوئی ہے۔ اوڈیشہ کے سابق وزیرِ اعلیٰ نوین پٹنائک نے بھی اس قدم کی مذمت کرتے ہوئے نیلی جرسی کو اشوک چکر سے منسلک ”قومی کھیلوں کے ورثے سے جڑا جذبہ“ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تبدیلی اوڈیشہ کی بی جے پی (BJP) حکومت کے دباؤ میں کی گئی ہے۔