• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’۱۴۰؍کروڑہندوستانیوں کا مفاد مقدم ہے ‘‘

Updated: September 18, 2026, 10:45 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کی تلوار، قرار داد امریکی پارلیمنٹ میں منظورکرلی گئی ، مرکزی حکومت کا سخت ردعمل، بل، صدر ٹرمپ کے دستخط کیلئے بھیجا گیا، وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ ’’ہم اپنی توانائی کی ضرورت کہیں سے بھی پورا کرنے کا حق رکھتے ہیں‘‘

US Senator Richard Blumenthal speaking to the media about the tariff bill. Photo: INN
امریکی رکن پارلیمنٹ رچرڈ بلومینتھل ٹیرف بل کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

روس اور ایران سے تیل خریدنے والے ممالک پر ۱۰۰ ؍فیصد تک امریکی ٹیرف عائد کرنے کی قرار داد امریکی پارلیمنٹ میں منظور ہو گئی جس کے بعد اس پر دستخط کیلئے اسے امریکی صدر ٹرمپ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اگر ٹرمپ اس پر دستخط کردیتے ہیں تو یہ باقاعدہ قانون بن جائے گی اور ہندوستان سمیت متعدد ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک امریکی ٹیرف عائد کیا جاسکےگا۔  

یہ بھی پڑھئے:وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بھوٹان دورہ، اہم لیڈروں سےملاقات

دریں اثناءامریکی قرار داد منظور ہونے پر ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ۱۴۰ ؍کروڑ عوام کی توانائی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دے گا۔ وزارتِ خارجہ نے اس سلسلے میں باقاعدہ بیان جاری کیا اور کہا کہ ہندوستان بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ کے مطابق مختلف ذرائع سے توانائی کی خریداری جاری رکھے گا اور اپنے تجارتی و اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔وزارتِ خارجہ نے اس  قانون سازی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں ہونے والی آئندہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان نے واضح کیا کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے لیے جہاں سے ضروری ہوگا، وہاں سے تیل اور دیگر توانائی کے وسائل خریدے جائیں گے۔

قابل ذکرہےکہ روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کے دباؤ کے درمیان ہندوستان- امریکہ تعلقات میں غیر یقینی صورت حال بھی نمایاں ہوئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہندوستانی حکومت نے اس معاملے پر متعدد امریکی نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔ نئی دہلی نے امریکی فریق کے سامنے مجوزہ پابندیوں اور ٹیرف کے ممکنہ اثرات کو نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے تناظر میں بھی واضح کیا ہے۔ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ دریں اثناء، وزیر خارجہ ایس جے شنکر آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے۔ ان کے دورے پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور باہمی تعلقات سمیت مختلف امور پر بات چیت متوقع ہے۔اس دوران بعض امریکی اراکین  کی جانب سے ہندوستان کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز نوعیت کے بیانات پر بھی نئی دہلی کی جانب سے اعتراض سامنے آیا ہے۔  وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کےاختلافات کو بات چیت  سےحل کرنے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اوپن، ڈسٹنس سے گریجویشن کرنے والے ایل ایل بی طلبہ کو عارضی اینرولمنٹ کی اجازت

امریکی قرار داد میں کیا ہے ؟
امریکی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرار داد جو ٹرمپ کے دستخط کے بعد قانون بن جائے گی، کے تحت روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے بعض بڑے ممالک پر ۱۰۰ ؍فیصد تک اضافی درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار امریکی صدر کو دینے کی تجویز ہے۔ ہندوستان روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، جس کے باعث نئی امریکی پالیسی کے ممکنہ اقتصادی اثرات پر نئی دہلی میں خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ہندوستان کے علاوہ اس ٹیرف بل سےچین ، ترکی ،آذر بائیجان ، ہنگری،سلوواکیہ ،متحدہ عرب امارات اور کرغیز ستان بھی متاثر ہوں گے کیوں کہ یہ ممالک بھی روس سے سستا تیل اور قدرتی گیس خریدتے ہیں۔ ان ممالک نے اس پر شدید ردعمل دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK