دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کے بعد ملک بھر میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور ہر جگہ طلبہ کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 10:43 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad
دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کے بعد ملک بھر میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور ہر جگہ طلبہ کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کے بعد ملک بھر میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور ہر جگہ طلبہ کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پیر کو اورنگ آباد میں گاندھی کے مجسمہ کے سامنے مختلف تنظیموں نے مشترکہ طور پر علامتی بھوک ہڑتال کی ۔اس موقع پر مظاہرین نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور مضبوط نظام قائم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: لکشمن ہاکے کا ’او بی سی جنتا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان
صبح ۹؍ بجے علامتی بھوک ہڑتال کا آغاز ہوا۔ مہاتما گاندھی کے مجسمے پر پروفیسر وجے پاتھریکر اور پروفیسر شری رام جادھو نے پھولوں کا ہار چڑھا کر پروگرام کا افتتاح کیا۔اس موقع پر مہاتما گاندھی مشن کے ک سربراہ انکش راؤ کدم ، نوجوان صحافی نرنجن ٹکلے، رکن پارلیمنٹ کلیان کالے، کسان لیڈر امر حبیب، مزدور لیڈر سبھاش لومٹے، پروفیسر رام باہیتی، ٹیلی فون ملازمین یونین کے ساتھی رنجن دانی، ضلع کانگریس صدر کرن پاٹل ڈونگاؤںکر، پروفیسر جے دیو ڈولے، ایڈوکیٹ وشنو ڈھوبلے سمیت بے شمار افراد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے: جالنہ: بچوں کے درمیان ہوا معمولی جھگڑا خونریز تصادم میں تبدیل
مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل جیسے نازک معاملے پر بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ نیٹ پیپر لیک معاملہ انتہائی حساس ہے لیکن حکومت کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ آخر پیپر لیک کیسے ہو رہا ہے؟ وہ مظاہرین کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ سونم وانگ چک ۲۲؍ دنوں سے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بھوک ہڑتال کر رہے ہیں لیکن انہیں زبردستی جنتر منتر سے اٹھا کر اسپتال بھیج دیا گیا۔ طلبہ نے مارچ کیا تو ان پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ طلبہ کے ساتھ ہیں اور دھرمیندر پردھان کے استعفے تک مختلف صورتوں میں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔