ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ’’ ہم حملے کیلئے تیار تھے لیکن ایران نے ہم سے مذاکرات کی درخواست ‘‘، ایران نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 11:43 AM IST | Washington
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ’’ ہم حملے کیلئے تیار تھے لیکن ایران نے ہم سے مذاکرات کی درخواست ‘‘، ایران نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے۔ٹرمپ نے ایک روز قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم ایرانیوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘ امریکی صدر نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ان کا ملک دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے بڑے حملے کی تیاری کر چکا تھا لیکن ایرانیوں نے ان سے گفتگو کی درخواست کی تھی۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی اپنی درخواست سےانکار کرتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایران سے متعلق اختیار کی گئی پالیسی کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے میں امریکہ کا موقف مزید مضبوط ہو چکا ہے اور تہران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایرانی حکومت خستہ حال ہے۔ اس کے اندر دو گروہ ہیں جن میں سے ایک جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جبکہ دوسرا اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ وقت لگے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بیرون ملک جنوبی کوریائی قیدیوں کی تعداد میں چار سالوں میں ۲۵؍ فیصد اضافہ: رپورٹ
اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو ایک پیغام پہنچایا ہے جس میں وہ اس سمجھوتے کی یاد داشت کی مکمل پاسداری کی طرف لوٹنے پر رضامندی ظاہر کر رہا ہے جس پر دونوں فریقوں نے گذشتہ جون کے مہینے میں اسلام آباد میں دستخط کئے تھے۔انہوں نے کہا ’ایران کے ساتھ مذاکرات کی موجودگی کی بات کرنے والے امریکی بیانات درست نہیں ہیں، کیونکہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ اس کے باوجود ہمیں امریکہ کی طرف سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی طرف لوٹنے کیلئےاس کی آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔‘‘
غریب آبادی نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، جس میں ایرانی ایٹمی پروگرام پر گفتگو ہونا طے ہے۔ ادھر ایران نے عمان کے ساتھ گزرگاہوں کے راستوں پر بات چیت میں ’بڑی پیش رفت‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت ایرانی پانی سے گزرے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس ہفتے ایک معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ امکان ہے کہ اس سے یہ اہم آبی گزرگاہ دوبارہ کھل جائے گی۔