• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو مجرم ثابت ہوئے تو تاریخ کے بڑے جنگی مجرموں میں شمار ہونگے: ٹی آر ٹی ورلڈ

Updated: August 30, 2026, 11:56 AM IST | Istanbul

ٹی آر ٹی ورلڈ نے ایک نظریاتی تحریر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تناظر میں تاریخ کے بعض بدترین بڑے پیمانے کے مظالم کے ذمہ دار لیڈروں کے ساتھ جوڑا ہے۔ تحریر میں کہا گیا ہے کہ اگر نیتن یاہو مستقبل میں ان الزامات میں مجرم قرار پاتے ہیں تو ان کا نام پول پوٹ، جوزف اسٹالن، رادووان کراڈزچ اور ایڈولف ہٹلر جیسے لیڈروں کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ڈی آر ٹی ورلڈ نے اپنے تازہ نظریاتی مضمون میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تناظر میں جدید تاریخ کے بدترین اجتماعی مظالم کے ذمہ دار لیڈروں کے ساتھ جوڑا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی جانب سے جاری گرافک کے ساتھ شائع کی گئی تحریر میں کہا گیا ہے کہ اگر نیتن یاہو کو بالآخر مجرم قرار دیا جاتا ہے تو انہیں ان لیڈروں میں یاد کیا جائے گا جنہوں نے خونریزی کے ذریعے سرحدوں اور سیاسی نقشے تبدیل کیے۔ تحریر میں پول پوٹ، جوزف اسٹالن، رادووان کراڈزچ، ایڈولف ہٹلر اور نیتن یاہو کے نام ایک ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا حکومتوں پر زمین کی بحالی کو معاشی سرمایہ کاری سمجھنے پر زور

تحریر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کو سیاسی مہمات کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی یا بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایسے جرائم کے لیے جواب دہی کا اصول برقرار رہنا چاہیے۔ نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کا سب سے نمایاں بین الاقوامی قدم بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے اٹھایا گیا۔ عدالت نے ۲۱؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو نیتن یاہو اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ آئی سی سی کے مطابق پری ٹرائل چیمبر نے ان کے خلاف جنگی جرم، بطور طریقۂ جنگ بھوک کو استعمال کرنے، اور انسانیت کے خلاف قتل، ظلم و ستم اور دیگر غیر انسانی افعال کے الزامات سے متعلق معقول بنیادیں پائی تھیں۔ آئی سی سی نے یہ بھی کہا تھا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ پر شہری آبادی کے خلاف حملے کی ہدایت دینے سے متعلق جنگی جرم کی مبینہ فوجداری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ یہ الزامات اور گرفتاری کے وارنٹ ہیں، حتمی سزا یا جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ امن منصوبہ: حماس ہتھیار اور حکومتی اختیار منتقل کرنے پر راضی

غزہ جنگ کے قانونی پہلو پر عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں بھی جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کنونشن کے تحت مقدمہ جاری ہے۔ جنوری ۲۰۲۴ء میں عدالت نے عارضی اقدامات جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو نسل کشی کنونشن کے تحت فلسطینیوں کے خلاف ایسے اعمال کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حکم دیا جن کا تعلق کنونشن کے آرٹیکل II میں بیان کردہ افعال سے ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر مقدمے کے حتمی میرٹ پر فیصلہ نہیں دیا تھا۔ بعد میں مارچ اور مئی ۲۰۲۴ء میں آئی سی جے نے مزید عارضی اقدامات جاری کیے، جن میں غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے اور رفح میں فوجی کارروائی سے متعلق مخصوص ہدایات شامل تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:نیپال: تباہ کن سیلاب کی وجہ سامنے آگئی، گلیشیئر کا دو تہائی حصہ ٹوٹ کر گرا

مضمون میں نیتن یاہو کے ممکنہ تاریخی مقام کو ان لیڈروں کے ساتھ جوڑنے کی بنیاد ان قانونی کارروائیوں اور غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم پر جاری بین الاقوامی تنقید کو بنایا گیا ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو کے مستقبل میں مجرم ثابت ہونے کا سوال بھی ابھی مفروضے کی حد تک ہے۔ آئی سی سی کا گرفتاری وارنٹ کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا؛ حتمی سزا کے لیے عدالتی کارروائی اور فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK