ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو انتباہ دیا کہ اگلا ہدف اسرائیل کا دیمونا جوہری پلانٹ ہوگا،اسرائیل پر حملوں کی ۱۹؍ویں لہر کیلئے تیاری۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 11:37 AM IST | Tehran
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو انتباہ دیا کہ اگلا ہدف اسرائیل کا دیمونا جوہری پلانٹ ہوگا،اسرائیل پر حملوں کی ۱۹؍ویں لہر کیلئے تیاری۔
تہران(ایجنسی): ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت گرانے کی کوشش کی گئی تو اسرائیلی جوہری مرکز اس کا ہدف ہوگا۔ اسرائیل اور امریکی حملوں کوجمعہ کو ۶؍دن ہوچکے ہیں اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔ ان حالات میں ایران کی جانب سے سنگین دھمکی دی گئی ہے اور متنبہ کیا گیا ہے کہ ’’اسرائیل اور امریکہ ایران میں حکومت بدلنے کی مذموم کوششوں سے باز رہیں، بصورت دیگر اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہوگا اور دیمونا کو براہ راست نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘ روئٹرز نے اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ
رپورٹ میں فوجی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا اور ’رجیم چینج ‘کی کوششوں پر اسرائیل کا دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کا سر فہرست ہدف ہوگا۔ ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
ایران میں ۵؍روز میں ۱۸۱؍بچے سمیت ۱۰۴۵؍افراد شہید
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی فضائی بمباری کے ابتدائی پانچ دنوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری شہید ہوچکے ہیں۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی فضائی بمباری کے ابتدائی پانچ دنوں میں۱۰۹۷؍ عام شہری شہید ہوچکے ہیں، جن میں دس سال سے کم عمر کے۱۸۱؍ بچے بھی شامل ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم نے بتایا کہ ہفتے کی صبح شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک۱۰۹۷؍ شہریوں کی ہلاکت اور۵؍ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات جمع کی جاچکی ہیں۔ یہ جنگ ہفتے کو بڑے پیمانے پر کیے گئے ان فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت دیگر فوجی اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مزید۸۸۰؍ اموات کی تصدیق اور درجہ بندی کا عمل جاری ہے۔ اگرچہ ٹائم میگزین نے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد۱۰۸؍ سے۱۸۱؍ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کا نتیجہ: جرمنی میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ
امریکہ کے ۵۰۰؍فوجی مارے: ایران
ایران کے اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدارعلی لاریجانی نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے ۶؍دنوں میں۵۰۰؍ سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ،اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی مضحکہ خیز حرکتوںسے متاثر ہو گئے ہیں اور انہوں نے امریکی عوام کو ایران کے ساتھ ایک غیر منصفانہ جنگ میں گھسیٹ لیا ہے۔لاریجانی نے لکھا کہ ’’ اب انہیں حساب لگانا ہوگا جب صرف چند دنوں میں۵۰۰؍ سے زیادہ امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں تو کیا اب بھی امریکہ پہلے نمبر پر ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی
کس نے کیا کہا؟
ہم ایران کے معاملے میں مضبوط پوزیشن میں ہیں، ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران ہم پر حملہ کردیتا۔اس کے پاس ایٹم بم بھی ہوتا۔ ڈونالڈ ٹرمپ(امریکی صدر)
نیتن یاہو نے امریکہ کے۷؍ دورے کرکے صدر ٹرمپ کو جنگ پر آمادہ کیا۔ یہ اسرائیلی وزیراعظم کی ذاتی جنگ ہے۔یاہو اسرائیل کا آئین تبدیل کرکے ایک مطلق العنان حکمران بننا چاہتے ہیں۔ ترکی الفیصل(سابق سعودی انٹیلی جنس چیف )
ایران کی جانب سے کسی پیشگی حملے کا کوئی خطرہ موجود نہیں تھا۔اس کے خلاف غیرضروری جنگ لڑی جارہی ہے، ایران میں اگر بہت بہترصورتحال بھی ہوئی تو وہ وینزویلا جیسی ہوگی۔ یہ جنگ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔ جان ساؤورز(ایم آئی ۶؍ کے سابق سربراہ)
ترکی اپنی سرحداور قوم کے تحفظ کیلئے تیار ہے۔ ایرانی حملوں کا جواب دینے اور خطے کی صورتحال کیلئے نیٹو اتحادیوں کیساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ہم اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے واضح طور پر وارننگ دے رہے ہیں۔ طیب اردگان(ترکی کے صدر)