Updated: April 06, 2026, 3:02 PM IST
| Jerusalem
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی اور ہلاک ہو رہے ہیں۔ حالیہ واقعات میں نہتے کسانوں پر حملے اور املاک کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات نے علاقے میں خوف و غم کی فضا مزید گہری کر دی ہے۔
کم از کم ۱۰؍فلسطینی پیر کی صبح زخمی ہو گئے جب غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں دو دیہات پر حملے کئے۔ لبان گاؤں میں آبادکاروں نے ایک بدو برادری پر دھاوا بول دیا، رہائشیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور۱۰؍ افراد کو زخمی کر دیا، جن میں سے دو کو اسپتال منتقل کیا گیا، مقامی کونسل کے سربراہ یعقوب عویس نے بتایا۔ گھروں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی، تقریباً۱۰؍ گاڑیاں جل گئیں اور دو مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
آگ اور جھڑپیں پھیل گئیں
ایک الگ واقعے میں، غیر قانونی اسرائیلی آبادکار قریبی قصبے قصرا میں داخل ہوئے اور ایک فلسطینی گاڑی کو آگ لگا دی، جس کے بعد مقامی افراد کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ درجنوں نوجوانوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور بالآخر انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، کارکن عبدالدائم الوادی نے بتایا۔ یہ تشدد اکتوبر۲۰۲۳ء سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کا حصہ ہے، جس میں ہلاکتیں، زخمی، گرفتاریاں اور بے دخلی شامل ہیں۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں ۱۱۴۰؍ سے زائد افراد جاں بحق، تقریباً۱۱؍ ہزار ۷۵۰؍زخمی اور لگ بھگ۲۲؍ ہزار افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا پائلٹ کی ماں کو جواب: آپ کے بیٹے ٹرمپ کے ماتحت زیادہ خطرے میں ہیں
اپنے ہی کھیت میں آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینی کسان قتل
ایک مہینے میں تیسری بار، ایک فلسطینی کسان کو اس کی اپنی زمین پر، اس کے والد کے سامنے، ایک مسلح غیر قانونی آبادکار نے قتل کر دیا۔ اس ہفتے مقتول محمد فراج تھا، جو۳۹؍ سالہ سول انجینئر اور پانچ بچوں کا باپ تھا، جبکہ چھٹے بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق، محمد کو بدھ کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ یروشلم کے جنوب میں ٹیکوعہ بستی کے قریب اپنے خاندان کی۷ء۹؍ ہیکٹر زمین پر کھڑا تھا۔ اس کے۷۵؍ سالہ والد احمد فراج، جو خود بھی زخمی ہوئے، اس واقعے کے عینی شاہد تھے۔ فراج خاندان نسلوں سے اس زمین کا نجی مالک ہے، جو اسرائیل لینڈ رجسٹری میں درج ہے۔ تاہم، گزشتہ ایک سال کے دوران آبادکار نوجوانوں نے اس زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ والد کو ایک آبادکار لیڈر یہودا کے ساتھ جھگڑا یاد ہے، جس نے دعویٰ کیا کہ یہ زمین صرف یہودیوں کی ہے۔ یہودا نے مبینہ طور پر کہا ’’ابراہیم نے زمین صرف یہودیوں کو دی ہے۔ میں قانون ہوں، اور قانون سے بالاتر بھی ہوں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایٹمی پلانٹ پر حملہ ہوا توخلیجی ممالک میں زندگیاں تباہ ہونگی
قتل کے دن کے واقعات
یہ مہلک واقعہ کئی دراندازیوں کے بعد پیش آیا۔ یہ ایک مہینے میں اس نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ مارچ کے وسط میں، محمد شناران نے اپنے دو بیٹوں کو اپنے سامنے گولی لگتے دیکھا۔ ایک ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ دو ہفتے بعد، ۲۸؍ سالہ عامر عودہ کو بھی اپنے والد کے سامنے، قصرا گاؤں کے قریب کھیت میں کام کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ ہر واقعہ میں ایک جیسا انداز نظر آتا ہے۔ مسلح آبادکار فلسطینی کسانوں کا سامنا کرتے ہیں، صورتحال بگڑتی ہے اور فائرنگ میں ہلاکت ہو جاتی ہے۔ حملے کی صبح، احمد اپنے کھیت پہنچا تو دیکھا کہ آبادکاروں نے ٹریکٹر کے ذریعے باڑ توڑ کر ایک بڑا سیاہ خیمہ لگا لیا ہے۔ احمد کی اپیلوں کے باوجود صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ تین فوجی جیپیں کچھ دیر کیلئے آئیں، لیکن احمد کے مطابق فوجیوں اور آبادکاروں نے ’ایک دوسرے کو گلے لگایا‘ اور پھر فوج چلی گئی، خاندان کو غیر محفوظ چھوڑ کر۔ ’’فوج کیوں چلی گئی؟‘‘ احمد نے غصے سے سوال کیا۔ ’’انہوں نے ہمیں ہتھیاروں والے لوگوں کے سامنے کیوں چھوڑ دیا؟ جو ہوا اس کی ذمہ دار فوج ہے۔ ‘‘فوج کے جانے کے فوراً بعد آبادکاروں نے خیمہ دوبارہ لگانا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ گالم گلوج پر اُتر آئے، ہرمز نہ کھلا تو پاور پلانٹس پرحملے کا انتباہ دیا
جب احمد اور اس کے رشتہ دار باڑ کے قریب پہنچے تو فائرنگ شروع ہو گئی۔ احمد کے سر کے قریب سے گولی گزری، جو چند ملی میٹر کے فرق سے جان لیوا ثابت نہ ہوئی، مگر اسے چھ ٹانکے لگے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کا بیٹا محمد زمین پر پڑا تھا، اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک گولی اس کے ماتھے میں لگی تھی۔
واقعے کے بعد اور جاری تشدد
اسرائیلی فوج نے بیان دیا کہ اس کے اہلکار جھڑپ کو منتشر کرنے کیلئے آئے تھے لیکن جب انہیں لگا کہ صورتحال قابو میں ہے تو وہ واپس چلے گئے۔ تحقیقات اسرائیلی پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ قتل کے بعد پولیس نے محمد کی نماز جنازہ پر سخت پابندیاں لگا دیں، جن میں بینرز اور نعرے لگانے پر پابندی شامل ہے۔ جب ایک یادگاری پوسٹر لگایا گیا تو پولیس نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر اسے نہ ہٹایا گیا تو تقریب بند کر دی جائے گی۔ جبکہ خاندان سوگ میں ہے، زمین پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک نیا خیمہ دوبارہ فراج خاندان کی زمین پر لگا دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکام اسے کئی بار ہٹا چکے ہیں، آبادکار بار بار واپس آ کر اپنی موجودگی قائم کر لیتے ہیں۔ احمد فراج کیلئے یہ نقصان ذاتی اور ناقابل تلافی ہے۔ انہوں نے کہا ’’پچھلے ہفتے میں نے اپنے پیارے بیٹے کو کھو دیا۔ ‘‘