Updated: October 24, 2026, 10:11 PM IST
| London
جرمن میڈیا گروپ ایکسل اشپرنگر نے ۵۷۵؍ ملین پاؤنڈ میں دی ٹیلی گراف کو خریدنے کے چند ماہ بعد ہی ملازمتوں میں کٹوتی کا عمل شروع کردیا۔ اخبار کو مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ عالمی میڈیا اور معلوماتی ادارے میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت ۱۰۰؍ تک ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کھیل اور ثقافت کے شعبوں پر خاص اثر پڑنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ انتظامیہ ویڈیو، آڈیو، تقریبات اور دیگر ڈجیٹل ذرائع سے آمدنی بڑھانے کی تیاری کررہی ہے۔
برطانیہ کے معروف اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم کیے جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اخبار کے نئے مالک جرمن میڈیا کمپنی ایکسل اشپرنگر نے ادارے کی تنظیمِ نو کے لیے باضابطہ مشاورت شروع کردی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق، اس عمل میں ۱۰۰؍ تک ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔ کھیل اور ثقافت کے شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین پر خاص طور پر اثر پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، ٹیلی گراف میڈیا گروپ نے اب تک ممکنہ برطرفیوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ۲۳؍ اکتوبر کو ادارے کی چیف ایگزیکٹیو کیرولین ہولشف پول اور ایڈیٹر اِن چیف کرس ایونز نے ملازمین کو تنظیمِ نو کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق، ادارے کی ملکیت کے طویل تنازع کے دوران سرمایہ کاری، کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور نئی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت محدود رہی۔ اب کمپنی اپنے وسائل کو نئی ترجیحات کے مطابق منظم کرنا چاہتی ہے، فیصلوں کا عمل تیز کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو سادہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چیف ایگزیکٹیو نے ملازمین کو بتایا کہ مشکل فیصلوں کے باوجود انتظامیہ انہیں ادارے کے مستقبل کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئی فون ڈیو چند منٹوں میں فروخت، مگر ہندوستان میں اسٹورز کے باہربھیڑ کیوں نہیں؟
پول نے اپنے پیغام میں کہا، ’’ہماری خواہش ہے کہ دی ٹیلی گراف کو ایک ممتاز برطانوی اخبار سے عالمی، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ پریمیم میڈیا اور معلوماتی ادارے میں تبدیل کیا جائے۔‘‘ ان کے مطابق، اس نئے کاروباری ماڈل کی بنیاد قابلِ اعتماد صحافت، قارئین کے ساتھ براہِ راست تعلق اور ادارے کی خصوصی مہارت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کو اعتماد کے ساتھ استعمال کیا جائے گا، لیکن انسانی فیصلے، تخلیقی صلاحیت، اصل صحافت اور اعتماد جیسی خصوصیات کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔ تنظیمِ نو کے تحت ادارے کے بعض شعبوں کو یکجا کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، تبصرہ اور تجزیہ کرنے والی ٹیموں کو ضم کیا جاسکتا ہے، جبکہ فیچرز اور طرزِ زندگی سے متعلق مواد تیار کرنے والے شعبوں کو بھی یکجا کرنے کی تیاری ہے۔ اس کے ساتھ کھیل اور ثقافت کے شعبوں میں ملازمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، کن عہدوں کو ختم کیا جائے گا اور کن شعبوں میں کتنے ملازمین متاثر ہوں گے، اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
کمپنی صرف اخراجات کم کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتی بلکہ آمدنی کے نئے ذرائع بھی تلاش کررہی ہے۔ انتظامیہ کے منصوبے میں ویڈیو، آڈیو، پہیلیوں، تقریبات، کاروباری اداروں کے لیے خدمات، مواد کے لائسنس، تجارت اور نئی مصنوعات کے ذریعے آمدنی بڑھانا شامل ہے۔ ادارہ بین الاقوامی قارئین کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہتا ہے، خصوصاً خارجہ امور، دفاع اور کاروبار سے متعلق خبروں میں عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس حکمتِ عملی کے تحت دی ٹیلی گراف کو صرف ایک روایتی اخبار کے بجائے متعدد ڈجیٹل خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی شکل دینے کی کوشش ہوگی۔ اس فیصلے کا پس منظر بھی اہم ہے۔ ایکسل اشپرنگر نے جون ۲۰۲۶ء میں دی ٹیلی گراف میڈیا گروپ کو ۵۷۵؍ ملین پاؤنڈ میں خریدا تھا۔ اس خریداری سے قبل اخبار کی ملکیت کا معاملہ تقریباً تین برس تک غیر یقینی صورت حال کا شکار رہا۔ اس عرصے میں مختلف ممکنہ خریداروں کے منصوبے ناکام ہوئے اور اخبار کے مستقبل کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ نئی ملکیت کے اعلان کے وقت ایکسل اشپرنگر نے ادارے کی ڈجیٹل تبدیلی تیز کرنے، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور امریکی مارکیٹ میں توسیع کے عزائم ظاہر کیے تھے۔ کمپنی کے پاس پہلے ہی پولیٹیکو، بزنس انسائیڈر اور جرمن اخبارات بِلڈ اور ڈائی ویلٹ جیسے میڈیا ادارے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۳۰ء تک جرمنی کو ہندوستان کی برآمدات ۵۰؍ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہیں
ملازمتوں میں کٹوتی کے مجوزہ منصوبے نے اس وعدے کے ساتھ ایک تضاد بھی پیدا کیا ہے کہ نئے مالک اخبار میں سرمایہ کاری کرکے اسے مزید وسعت دیں گے۔ دی گارجین نے ۱۰؍ اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایکسل اشپرنگر ۵۰؍ سے ۱۰۰؍ تک ادارتی ملازمتیں ختم کرنے کے امکانات پر غور کررہا ہے۔ اس وقت باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا، لیکن ۲۳؍ اکتوبر کو ملازمین کو تنظیمِ نو اور مشاورت کے آغاز سے آگاہ کردیا گیا۔ اس طرح نئی ملکیت کے تحت توسیع اور ترقی کے وعدوں کے ساتھ اخراجات کم کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ میڈیا صنعت کے لیے اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف خبروں کی تلاش یا متن کی تدوین تک محدود نہیں رہی؛ ادارے اسے اپنے کاروباری ماڈل، مواد کی تیاری اور قارئین کے تجربے میں تبدیلی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود صحافت میں اصل رپورٹنگ، ذرائع کی جانچ، ادارتی فیصلے اور عوامی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دی ٹیلی گراف کی انتظامیہ بھی اپنی حکمتِ عملی میں ان خصوصیات کو برقرار رکھنے کی بات کررہی ہے، لیکن ملازمتوں میں ممکنہ کمی کے بعد نیوز روم کی صلاحیت اور ادارتی کام کے طریقے کس طرح بدلیں گے، یہ ابھی واضح نہیں۔ فی الحال باضابطہ مشاورت جاری ہے اور متاثر ہونے والی ملازمتوں کی حتمی تعداد سامنے آنا باقی ہے۔