Updated: May 12, 2026, 3:11 PM IST
| London
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء میں ممکنہ ’’سپر ال نینو‘‘ دنیا بھر میں شدید موسمی تباہی لا سکتا ہے، جس میں ریکارڈ توڑ گرمی، خشک سالی، سیلاب اور نمی میں غیر معمولی اضافہ شامل ہے۔ مختلف عالمی موسمیاتی ماڈلز کے مطابق جون یا جولائی تک ال نینو کے مکمل طور پر فعال ہونے کے ۶۰؍ سے ۸۰؍ فیصد خدشات ہیں۔ گزشتہ ۱۵۰؍ سال کے مقابلے میں یہ سال سب سے زیادہ گرم اور سیلابی صورتحال والا ہوگا۔
دنیا بھر کے موسمیاتی ماہرین نے ۲۰۲۶ء میں ایک ممکنہ ’’سپر ال نینو‘‘ کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ گزشتہ ڈیڑھ صدی (۱۵۰؍ سال) کے خطرناک ترین موسمی واقعات میں شامل ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مختلف عالمی موسمیاتی ماڈلز نے مسلسل کئی ماہ سے پیش گوئی کی ہے کہ ۲۰۲۶ء میں بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی حد تک گرم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، نمی میں اضافہ اور موسمیاتی بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : مہاراشٹر میں ہر ضلع میں ٹریفک پارک بنے گا
ماہرین کا کہنا ہے کہ جون یا جولائی ۲۰۲۶ء تک مکمل ال نینو کے بننے کے ۶۰؍ سے ۸۰؍ فیصد امکانات موجود ہیں۔ این او اے اے، ورلڈ میٹریولوجیکل آرگنائزیشن اور یورپین سینٹر فار ویدر فورکاسٹ سمیت اہم موسمیاتی اداروں نے ’’ال نینو واچ‘‘ جاری کر رکھی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ ۱۸۷۷ء کے تاریخی ال نینو سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتا ہے، جسے جدید تاریخ کے بدترین موسمی بحرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ال نینو دراصل ایک موسمیاتی رجحان ہے جس میں وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل عالمی موسمی نظام کو متاثر کرتا ہے کیونکہ بحرالکاہل میں ہوا اور نمی کی نقل و حرکت تبدیل ہو جاتی ہے۔
عام حالات میں ہوائیں گرم پانی کو ایشیا کی طرف دھکیلتی ہیں، لیکن ال نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں یا بعض اوقات مخالف سمت میں چلنے لگتی ہیں، جس سے گرم پانی امریکہ کے ساحلوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں دنیا بھر کے موسمی پیٹرن متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دیگر خطے سخت خشک سالی اور قحط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ والاس نے اپنی تحریر میں ۱۸۷۷ء کے ال نینو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت صرف موسم ہی نہیں بدلا تھا بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں قحط، وبائیں اور سماجی بحران پیدا ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے : سعودی عرب: سیکوریٹی فورسیز کا غیر قانونی عازمین حج کے خلاف کریک ڈاؤن
انہوں نے لکھا کہ مصر، ہندوستان، برازیل اور چین سمیت متعدد ممالک میں لاکھوں افراد خوراک کی قلت اور بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق آج کی دنیا موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، اس لیے ایک ’’سپر ال نینو‘‘ کے اثرات مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ کئی خطے پہلے ہی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں، پانی کی قلت اور زرعی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق غریب اور ترقی پذیر ممالک اس موسمی بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں خوراک، پانی اور صحت کے نظام پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینے عالمی موسمیاتی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ہوں گے اور حکومتوں کو ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوری تیاری کرنا ہوگی۔