والدین پر تعلیمی بوجھ بڑھ سکتا ہے ، ماہرین تعلیم نے بھی تشویش کا اظہار کیا،آن لائن اور ہائیبرڈ کلاسیز پر غور۔
اسکول بس۔ تصویر:آئی این این
ملک بھر میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر والدین اور ماہرین تعلیم دونوں ہی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس کے اسکولی نظام پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مہاراشٹر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد جون میں اسکول دوبارہ کھلنے والے ہیں۔
ریاست میں اسکول بس انتظامیہ فیس میں اضافے کی توقع کر رہی ہے۔ ممبئی اسکول بس اسوسی ایشن کے صدر انل گرگ نے کہا’’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فیس میں کتنا اضافہ ہوگا کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اگر قیمتوں میں ۵؍ روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں اس کے تناسب سے بس کی فیس بڑھانی پڑ سکتی ہے۔‘‘
دریں اثنا متعلقہ فریقین اس صورتحال سے بچنے کے لئے مختلف طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں جیسے کہ اسکولوں کو صبح اور دوپہر کی شفٹوں کے بجائے صرف ایک شفٹ تک محدود کرنا یا آن لائن اور آف لائن کلاسز باری باری چلانا۔ انل گرگ نے مزید کہا’’جس طرح ہم نے کورونا وبا کے دوران اپنے اسکول بس ڈرائیوروں کو تنخواہیں دی تھیں، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس بار بھی تنخواہیں ادا کی جائیں، چاہے اس کا انتظام جیسے بھی ہو۔‘‘
ہم تیاریاں کر رہے ہیں
دوسری طرف کچھ اسکولوں کا کہنا ہے کہ وہ اپریل سے ہی ایسے حالات کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ سنگھانیہ اسکولز کی ڈائریکٹر ریوتی سرینیواسن نے کہا’’ہم اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں، چاہے وہ ہائبرڈ اسکولنگ ہو یا آن لائن نظام۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو والدین ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہیں، ان کیلئے بھی بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
حکام کا موقف
جون میں اسکول شروع ہونے کے ساتھ ہی اسکول بس اور والدین کی کمیٹیوں کے درمیان ان تبدیلیوں کے حوالے سے اہم ملاقاتیں ہونا ابھی باقی ہیں۔ ممبئی بس اونرس اسوسی ایشن کے رکن شاہد شیخ نے کہا’’زیادہ تر والدین اور اسکول کا عملہ چھٹیوں پر باہر گیا ہوا ہے، اس لئےاب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ میٹنگ یا بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم جون کے پہلے ہفتے میں صورتحال واضح ہونا شروع ہو سکتی ہے۔‘‘نئے تعلیمی سال کی آمد کے ساتھ ہی والدین پہلے ہی اسٹیشنری، درسی کتابوں اور دیگر تعلیمی سامان پر اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے یونائیٹڈ فورم کی صدر اور ماہر تعلیم اروندھتی چوہان نے کہا کہ والدین پہلے ہی کافی پریشان ہیں، اس لئے فیس میں اضافے کے حوالے سے اگلے اقدامات پر گہرائی سے سوچنا ہوگا۔ صورتحال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اس لئے ہمیں حالات واضح ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اسی دوران اعلیٰ تعلیم کے محکموں نے پہلے ہی ہائبرڈ صورتحال کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔