مارشل آرٹس کھلاڑی نے کہا کہ مقابلہ میں حاوی ہونے کے باوجود فیصلہ ان کے خلاف گیا اور ثالثی کے بعد بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 12:56 PM IST | Agency | Nagoya
مارشل آرٹس کھلاڑی نے کہا کہ مقابلہ میں حاوی ہونے کے باوجود فیصلہ ان کے خلاف گیا اور ثالثی کے بعد بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا۔
جاپان میں جاری ایشین گیمز میں ہندوستان کے لیے کانسے کا تمغہ جیتنے کے بعد۳۶؍ سالہ ہندوستانی مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹر سوچیکا تریال نے سیمی فائنل میں متنازع فیصلے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سوچیکا نے کہا کہ مقابلہ میں حاوی ہونے کے باوجود فیصلہ ان کے خلاف گیا اور ثالثی کے بعد بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس فیصلے میں کھلاڑیوں کے مفادات پر ملکی مفادات کو ترجیح دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:۴۱؍ ویں رینک کی ٹیم جاپان سے ہندوستان ہارتے ہارتے بچا
سوچیکا نے کانسے کا تمغہ جیتا
سوچیکا کا مقابلہ خواتین کے روایتی ۶۰؍ کلوگرام کے سیمی فائنل میں سنگاپور کی ہوئی ہون ٹیو سے تھا۔ سخت مقابلے کے بعد ججوں نے سنگاپور کے فائٹر کے حق میں فیصلہ سنایا۔ سوچیکا نے فیصلے پر اعتراض کیا اور ثالثی کا مطالبہ کیا۔ جائزہ لینے کے بعد مقابلہ ڈرا قرار دیا گیا جس کے بعد ایشین مکسڈ مارشل آرٹس ایسوسی ایشن(اے ایم ایم اے) کے قوانین کے تحت، کم وزن والی فائٹر کو فاتح قرار دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سوچیکا کا وزن حریف کھلاڑی سے۷۰۰؍ گرام زیادہ تھا۔ اس فیصلے کے بعدسوچیکانے فیلڈ پرہی عدم اتفاق کیا اورفاتح کا اعلان کرنے والی ریفری کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد انہوں نے مدمقابل سے بھی ہاتھ نہیں ملایا۔
یہ بھی پڑھئے:خواتین کی کرکٹ ٹیم نے ہندوستان کو ایشین گیمز میں پہلا طلائی تمغہ دلایا
فیصلہ میرے خلاف ہی ہوتا
فیصلے سے ناراض سوچیکا نے آئی اے این ایس کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا’’مجھے لگتا ہے کہ اسے ہی جیتنا تھا کیونکہ فیڈریشن سنگاپور کا ہے۔ اگر میرا وزن تھوڑا کم ہوتا تو بھی فیصلہ میرے خلاف ہوتا۔ انہوں نے ہر چیز کو وزن پر ڈال دیا، انہوں نے اپنے ملک کے بارے میں سوچا، کھلاڑی کے بارے میں نہیں۔ بدعنوانی ہر جگہ ہے، میں نے یہاں بھی دیکھ لیا۔‘‘
میچ کے دوران اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ دونوں راؤنڈز پر حاوی رہیں اور آخری منٹوں میں بھی انہوں نے مسلسل اسکور کیا۔ سوچیکا نے کہا’’میری کارکردگی ۱۰۰؍فیصد رہی ۔میں اس فیصلے سےمتفق نہیں ہوں جو حریف کے حق میں گیا، کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں ہی جیتنے والی ہوں۔ مجھے اب بھی لگتا ہے کہ مجھے جیتنا چاہئے تھا کیونکہ میں نے دونوں راؤنڈز میں بہت اچھا مقابلہ کیا اور حاوی رہی۔ آخری منٹوں میں، وہ(حریف) پیچھے ہٹ رہی تھی جبکہ میں مقابلہ کر رہی تھی ۔ میں اسکور کررہی تھی اور وہ ہٹ رہی تھی لیکن فیصلہ پھر بھی اس کے حق ہوا۔‘‘