• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: ارب پتی پروموٹرز کلب میں ۳؍ سال بعد گراوٹ، ۷ء۱۳؍ فیصد سکڑ گیا

Updated: January 04, 2026, 1:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے ارب پتی پروموٹرز کلب میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۷ء۱۳؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ارب پتیوں کی تعداد ۲۰۴؍ سے گھٹ کر ۱۷۶؍ رہ گئی۔ ان کی مجموعی دولت میں بھی ۵؍ فیصد کمی آئی۔ تاہم مکیش امبانی اور گوتم اڈانی نے اپنی پہلی اور دوسری پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کے ارب پتی صنعتکاروں اور کاروباری پروموٹرز پر مشتمل کلب میں تین سال بعد پہلی مرتبہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک کے ارب پتی پروموٹرز کی تعداد دسمبر ۲۰۲۴ء کے اختتام پر ۲۰۴؍ تھی جو ۲۰۲۵ء کے اختتام تک گھٹ کر ۱۷۶؍ رہ گئی۔ اس طرح اس کلب میں ۷ء۱۳؍ فیصد کمی درج کی گئی جو ۲۰۱۲ء کے بعد نہ صرف تعداد بلکہ مجموعی دولت کے اعتبار سے بھی سب سے بڑی گراوٹ سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور اسٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام جیسے عوامل کاروباری طبقے کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان حالات کا براہِ راست اثر ہندوستان کے ارب پتی پروموٹرز کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت پر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لیگل ایمرجنسی میں عدالتیں ۲۴؍ گھنٹے دستیاب ہوں گی

اعداد و شمار کے مطابق، ارب پتی کلب کی مشترکہ دولت میں سال بہ سال ۵؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دسمبر ۲۰۲۴ء کے اختتام پر جہاں اس کلب کی مجموعی دولت ۲ء۱۰۳۶؍ ارب امریکی ڈالر تھی، وہیں دسمبر ۲۰۲۵ء کے آخر تک یہ گھٹ کر ۲ء۹۸۴؍ ارب امریکی ڈالر رہ گئی۔ یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے صنعت کار بھی عالمی اور ملکی معاشی دباؤ سے محفوظ نہیں رہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ارب پتی کلب میں اس نوعیت کی آخری بڑی کمی ۲۰۲۲ء میں دیکھی گئی تھی، جب ارب پتی پروموٹرز کی تعداد ۲۰۲۱ء کے ۱۴۲؍ کے مقابلے میں گھٹ کر ۱۲۶؍ رہ گئی تھی۔ تاہم اس کے بعد دو برس تک صورتحال نسبتاً مستحکم رہی، اور اب ایک بار پھر نمایاں گراوٹ سامنے آئی ہے۔

امبانی اور اڈانی کی ذاتی دولت میں اضافہ
اس مجموعی کمی کے باوجود، ہندوستان کے دو سب سے بڑے صنعت کار اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مکیش امبانی، جو ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، ایک بار پھر ملک کے امیر ترین پروموٹر کے طور پر پہلے نمبر پر موجود ہیں۔ اسی طرح گوتم اڈانی، اڈانی گروپ کے بانی، نے دوسری پوزیشن برقرار رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں مجموعی طور پر ارب پتی کلب سکڑتا نظر آیا، وہیں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی دونوں کی ذاتی دولت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق، ان دو کاروباری شخصیات کا مضبوط کاروباری ڈھانچہ، متنوع سرمایہ کاری، اور طویل المدتی منصوبہ بندی انہیں مارکیٹ کے دباؤ کے باوجود فائدہ پہنچانے میں کامیاب رہی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد : ٹکٹ سے محروم بی جے پی کارکنان کا ہنگامہ

ارب پتیوں کی تعداد میں کمی کی وجہ
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ارب پتی پروموٹرز کی تعداد میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان کی معیشت کمزور ہو رہی ہے، بلکہ یہ ایک اصلاحی اور قدرتی عمل بھی ہو سکتا ہے، جس میں کمزور یا زیادہ قرض میں جکڑی ہوئی کمپنیاں فہرست سے باہر ہو جاتی ہیں، جبکہ مضبوط گروپس اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آئندہ برسوں میں ہندوستان کے ارب پتی کلب کی ساخت میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی، گرین انرجی، ڈیجیٹل سروسز اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نئے نام اس فہرست میں شامل ہوں، جبکہ چند پرانے نام باہر ہو جائیں۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے اور گھریلو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوتا ہے تو ارب پتی پروموٹرز کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم فی الحال ۲۰۲۵ء کا اختتام ہندوستانی ارب پتی کلب کیلئے ایک سخت اور چیلنجنگ سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK