Updated: August 01, 2026, 11:03 AM IST
| New Delhi
ہندوستان میں بچوں کے لیے قائم معروف ایمرجنسی ہیلپ لائن 1098 (چائلڈ لائن) کو مرکزی حکومت کے براہِ راست انتظام میں دیے جانے کے دو سال بعد اس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، این جی اوز کے وسیع نیٹ ورک کی جگہ سرکاری نظام آنے کے بعد بچوں تک فوری رسائی، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے عمل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جبکہ بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے نظام کی مؤثریت میں نمایاں کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بچوں کو فوری امداد، تحفظ اور بحالی کی خدمات فراہم کرنے والی ملک گیر چائلڈ لائن 1098 کو مرکزی حکومت کے براہِ راست انتظام میں منتقل کیے جانے کے تقریباً دو سال بعد اس کی کارکردگی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے این جی اوز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چلنے والی اس ہیلپ لائن کی مؤثریت نئی انتظامی تبدیلیوں کے بعد متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ضرورت مند بچوں تک بروقت رسائی اور ان کی مدد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ چائلڈ لائن 1098 کا آغاز ایک ایسی مفت، چوبیس گھنٹے فعال ایمرجنسی سروس کے طور پر کیا گیا تھا جہاں مصیبت میں گھرے بچے مدد کے لیے رابطہ کر سکتے تھے۔ وقت کے ساتھ اس کا نیٹ ورک ملک کے ۶۰۰؍ سے زائد اضلاع تک پھیل گیا تھا اور مقامی این جی اوز، سماجی کارکنوں اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کے تعاون سے فوری امدادی کارروائیاں انجام دی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ: مودی سے متعلق قابلِ اعتراض پوسٹس، میٹا انڈیا ہیڈ کے خلاف ایف آئی آر
رپورٹ کے مطابق، پہلے ہیلپ لائن پر آنے والی متعدد کالیں ایسی ہوتی تھیں جن میں بچے خوف یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے کچھ بول نہیں پاتے تھے۔ ایسے ’’خاموش کالز‘‘ کو بھی سنجیدگی سے لیا جاتا تھا اور تربیت یافتہ عملہ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر کسی بچے کو فوری تحفظ یا بچاؤ کی ضرورت ہوتی تو متعلقہ ضلع میں موجود شراکت دار این جی او کو اطلاع دی جاتی، جو عموماً ایک گھنٹے کے اندر بچے تک پہنچنے کی کوشش کرتی تھی۔ اسکرول کے مطابق چائلڈ لائن سے وابستہ سابق کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقامی تنظیموں کے ذریعے صرف ریسکیو ہی نہیں بلکہ بچوں کی کاؤنسلنگ، بحالی، طبی امداد، خوراک اور قانونی معاونت کا بھی طویل المدتی انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق کئی معاملات میں سماجی کارکن بچے کے خاندان اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے تھے تاکہ متاثرہ بچے کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے: بھوج شالا۔ کمال مولیٰ تنازع: سپریم کورٹ نے ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت دی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی کے بعد متعدد مقامی این جی اوز کا کردار محدود یا ختم ہو گیا، جس کے باعث برسوں سے قائم زمینی رابطوں کا سلسلہ متاثر ہوا۔ بچوں کے حقوق کے شعبے سے وابستہ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں مقامی سماجی کارکنوں کا اعتماد، تجربہ اور فوری رسائی انتہائی اہم ہوتی ہے، جسے سرکاری نظام مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکا۔ چائلڈ لائن سے وابستہ سابق عہدیداروں کے مطابق، اس سروس کے ذریعے مدد حاصل کرنے والے بچوں میں تقریباً ۴۰؍ فیصد ایسے تھے جو غربت، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، بیماری یا سماجی محرومی جیسے مسائل کا شکار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو صرف فوری بچاؤ ہی نہیں بلکہ طویل مدتی سماجی اور نفسیاتی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
مرکزی حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہیلپ لائن کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد خدمات کو مزید مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔ تاہم، بچوں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے نظام کی کامیابی کا اصل معیار یہی ہوگا کہ ضرورت مند بچوں کو بروقت، محفوظ اور حساس انداز میں مدد فراہم ہو سکے۔