Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھوج شالا۔ کمال مولیٰ تنازع: سپریم کورٹ نے ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت دی

Updated: July 31, 2026, 5:59 PM IST | New Delhi

بھوج شالا۔ کمال مولیٰ مسجد تنازع میں سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ عبوری حکم کی وضاحت کرتے ہوئے مسلم برادری کو متنازع احاطے سے متصل مخصوص درگاہ کی زمین پر ہر جمعہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو امن و امان برقرار رکھتے ہوئے نماز کی ادائیگی کیلئے ضروری انتظامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔

The Supreme Court has allowed two hours of Friday prayers on the land adjacent to the dargah. Photo: INN
سپریم کورٹ نے درگاہ کی متصل زمین پر دو گھنٹے نمازِ جمعہ کی اجازت دی ہے۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے کمال مولیٰ مسجد۔ بھو ج شالا تنازع میں اپنے سابقہ عبوری حکم کی وضاحت کرتے ہوئے جمعرات کو ہدایت دی کہ مسلم برادری کو متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے متصل درگاہ کی مخصوص زمین پر ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے مسلم فریق کی اس درخواست پر سماعت کی، جس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے متنازع بھوج شالا احاطے کو مندر قرار دیئے جانے کے بعد جمعہ کی نماز کیلئے مناسب متبادل مقام فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’آپ کی جِلد ملک کے مستقبل سے زیادہ روشن ہے‘: دِپکے کا مودی کے ویڈیو پر نیا طنز

اس سے قبل سپریم کورٹ نے متنازع مقام پر نماز کی سابقہ اجازت بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھوج شالا کمپلیکس کے قریب نمازِ جمعہ کیلئے متبادل جگہ کی نشاندہی کرے۔ جمعرات کی سماعت کے دوران مسلم درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلع کلکٹر کی جانب سے مختص کی گئی جگہ متنازع مقام کے اتنے قریب نہیں جتنی عدالت نے ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق یہ مقام سڑک کے ذریعے تقریباً۱ء۳؍ کلومیٹر جبکہ سیدھی لائن میں تقریباً۹۰۰؍میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ بھوج شالا کمپلیکس سے متصل کئی موزوں قطعاتِ اراضی موجود ہیں اور یہ تمام وقف املاک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متولی نے حلف نامے داخل کر کے ان زمینوں پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جادوپور یونیورسٹی: بُک اسٹال کی کتابوں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دے کر جلانے کی دھمکی

انہوں نے نقشہ پیش کرتے ہوئے چار ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی، جن میں متنازعہ احاطے سے متصل درگاہ کی زمین بھی شامل تھی، اور استدلال کیا کہ ان میں سے کوئی بھی مقام عدالت کے اس سابقہ حکم پر پورا اترتا ہے جس میں بھوج شالا کے’قریب‘متبادل جگہ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ احمدی نے کلکٹر کی جانب سے امن و امان کے خدشات کی بنیاد پر متصل زمینیں مختص نہ کرنے کے فیصلے کی بھی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ محض ممکنہ احتجاج یا بدامنی کے اندیشے کی بنیاد پر آئینی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے ان گروپوں کے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے، جو بھوج شالا سے۳۰۰؍ میٹر کے اندر نماز کی مخالفت کر رہے تھے، کہا: ’’غلط کام کرنے والوں کے سامنے جھکا نہیں جا سکتا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں متنازعہ احاطے سے باہر متصل علاقے میں بلا کسی مسئلے کے نمازِ جمعہ ادا کی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: پارلیمنٹ میں انسدادِ پیپر لیک ترمیمی بل منظور

جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے دریافت کیا کہ نشاندہی کئے گئے مقامات میں سے کون سا مقام پہلے عدالتی احکامات کے تحت نمازکیلئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس پر احمدی نے جواب دیا کہ درخواست گزار عدالت کی جانب سے مناسب سمجھے جانے والے کسی بھی مقام کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سماعت کے دوران بنچ نے مشاہدہ کیا کہ نقشے میں زرد رنگ سے ظاہر کیا گیا قطعۂ زمین مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس تک پہنچنے کیلئے الگ راستہ موجود ہے۔ احمدی نے اس مقام پر بھی کوئی اعتراض نہ ہونے کی تصدیق کی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی تشویش صرف امن و امان برقرار رکھنے تک محدود ہے اور وہ متنازعہ مقام پر دونوں فریقوں کے دعووں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت کسی اور مناسب مقام، حتیٰ کہ نجی زمین، پر بھی غور کرنے کو تیار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سابق بس ڈرائیور کے پاس سے ۲۸؍ کروڑ نقد برآمد

جسٹس باغچی نے ریمارکس دیئے کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس بنیاد پر فریقین کے مذہبی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ عبوری حکم کی وضاحت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ مسلم برادری کو بھوج شالا کمپلیکس سے متصل مخصوص درگاہ کی زمین پر ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقام تک الگ اور آزاد راستہ موجود ہے اور یہ متنازعہ احاطے سے متصل بھی ہے، اس لیے نماز کی ادائیگی کیلئے یہ موزوں جگہ ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی اور مناسب مقام پر متفق ہو جائیں تو اس حکم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی ریاستی حکام کو ہدایت دی گئی کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کیلئےضروری انتظامات کئےجائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے ملازمین کی جانب سے تکارام منڈے کی وزیر سے شکایت

بتا دیں کہ یہ تنازع دھار میں واقع بھوج شالا۔ کمال مولیٰ کمپلیکس سے متعلق ہے، جسے ہندو فریق دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولیٰ مسجد قرار دیتا ہے۔ ۱۵؍مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے آثارِ قدیمہ کے سروے (اے ایس آئی) کی رپورٹ کی بنیاد پر ہندو فریق کے دعوے کو قبول کرتے ہوئے ۲۰۰۳ءکے اس انتظام کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت دونوں مذاہب کو مختلف اوقات میں اس مقام پر عبادت کی اجازت تھی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اب اس مقام پر نماز ادا نہیں کی جا سکتی۔ البتہ ہائی کورٹ نے مسلم برادری کو ریاستی حکومت سے مسجد کی تعمیر کیلئے متبادل زمین طلب کرنے کی اجازت دی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے پر ناقدین نے اسے سپریم کورٹ کے بابری مسجد مقدمے کے فیصلے سے مشابہ قرار دیا، جس میں بابری مسجد کی متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کیلئےدی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیرکیلئے متبادل زمین فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو: مڈ ڈے میل میں چکن بریانی پیش کرنے پر غور

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ کمال مولیٰ کمپلیکس کے مرکزی حصے کو گائے کے پیشاب اور گنگا جل سے ’پاک‘ کیا گیا، جس کے بعد وہاں ایک مورتی نصب کی گئی۔ مسلم تنظیموں اور درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے تاریخی ریکارڈ، محکمہ مال کی دستاویزات، نوآبادیاتی دور کے گزٹیئرز اور آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا کے سابقہ مؤقف کو نظرانداز کیا ہے۔ متعدد ناقدین نے اس فیصلے کو ’’بابری فیصلے کی تکرار‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ہائی کورٹ نے۱۹۳۵ءکے دھار اسٹیٹ گزٹیئر اور ۱۹۸۵ءمیں وقف رجسٹریشن سمیت اہم دستاویزی شواہد کو خاطر میں نہیں لایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK