Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین حامی کارکنوں کا ہندوستان پر اسرائیل کو فولاد فراہم کرنے کا الزام

Updated: May 21, 2026, 8:04 PM IST | Gaza

فلسطین حامی کارکنوں نے ہندوستان پر اسرائیل کو فولاد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ فولاد غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے لیے توپ خانے کے گولے بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطین کے حامی کارکنوں اور یکجہتی گروپوں نے ہندوستان سے اسرائیل بھیجی جانے والی جنگی فولاد کی کھیپ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فولاد غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے لیے توپ خانے کے گولے بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ، سینکشنز (BDS) تحریک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق،ایم ایس سی کمپنی کےجہازوں کے ذریعے تقریباً ۶۰۰؍ ٹن فولاد پر مشتمل۲۳؍ کنٹینر بحیرہ روم کے راستے اسرائیلی بندرگاہوں کو بھیجے جا رہے ہیں۔بعد ازاں  کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس فولاد سے تقریباً ۱۳؍ ہزار۱۵۵؍ ملی میٹر کے توپ خانے کے گولے بنائے جا سکتے ہیں، جو غزہ کی گنجان آباد ی پر بمباری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ و اسرائیل ایران پر حملے کے بعد سابق صدراحمدی نژاد کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے: نیویارک ٹائمز

واضح رہے کہ یہ فولاد ہندوستان کی کمپنی آر ایل سٹیلز اینڈ انرجی لمیٹڈ فراہم کر رہی ہے۔ یہ مال راستے میں اٹلی اور یونان کی بندرگاہوں سے ہوتا ہوا اسرائیل پہنچتا ہے۔ کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدے کر کے اس کی فوجی کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے۔تاہم یورپ میں مزاحمت بھی شروع ہو گئی ہے۔جس کے اظہار کے طور پر یونان کے ڈاک ورکرنے اسرائیل جانے والے جنگی سامان سے لدے جہاز اتارنے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے علاوہ اٹلی، اسپین اور پرتگال میں بھی کارکنوں نے BDS تحریک کی اپیل پر جہاز روکنے کی مہم شروع کر دی ہے۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فولاد اسرائیلی کمپنیوں ایلبٹ سسٹمز اور آئی ایم آئی سسٹمز کو بھیجا جا رہا ہے، جو غزہ جنگ کے لیے اہم گولہ بارود تیار کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مسلم مخالف دہشت گردی: گزشتہ دہائی کے مہلک حملے جنہوں نے دنیا کو ہلا دیا

دریں اثناء رپورٹ کے مطابق صرف جنگ کے پہلے سات ہفتوں میں اسرائیل نے غزہ میں۹۰؍ ہزار سے زیادہ گولے داغے۔BDS تحریک نے متعدد ممالک میں حکومتوں، یونینوں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی سامان کی ترسیل روکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت نسلی کشت کشی اور جنگی جرائم میں مدد فراہم کرنا ممنوع ہے۔واضح رہے کہ فروری ۲۰۲۴ء میں ہندوستان کی ڈاک یونینوں نے اسرائیل جانے والے ہتھیاروں سے لدے جہاز لوڈ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK