ممبئی روانہ ہونے سے قبل مراٹھا لیڈر جذباتی ہو گئے۔ چندحامیوں کے ساتھ روانہ ہوئے، کہا: سڑکوں پر آؤ اور مجھے آشیرواد دولیکن ابھی ممبئی مارچ میں شامل نہ ہوں۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 1:00 PM IST | ZA Khan / Agency | Jalna
ممبئی روانہ ہونے سے قبل مراٹھا لیڈر جذباتی ہو گئے۔ چندحامیوں کے ساتھ روانہ ہوئے، کہا: سڑکوں پر آؤ اور مجھے آشیرواد دولیکن ابھی ممبئی مارچ میں شامل نہ ہوں۔
مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرنگے پاٹل نے اپنی بھوک ہڑتال کے ۱۷؍ ویں دن جذباتی اپیل کی۔ سلائن اور دیگر طبی امداد لینا بند کر دینے سے ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔ ان کا ممبئی کا دورہ مہاراشٹر کے لوگوں سے ان کی آخری ملاقات ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ممبئی میں اپنے احتجاجی منصوبے کو تبدیل کردیا۔ وہ صرف چار یا پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ایس یو وی گاڑی میں ممبئی کیلئے روانہ ہوگئے۔ اطلاع کے مطابق وہ بیڑ پہنچ گئے تھے جہاں ان کا مراٹھا سماج کی جانب سے شانداراستقبال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی فوج کا غزہ جنگ پر دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ
منوج جرنگے نے یہ فیصلہ اس وقت لیا جب پولیس نے گنیش اتسو کے دوران آزاد میدان میں ان کی مجوزہ بھوک ہڑتال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔پچھلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے منوج جارنگے پاٹل نے کہاکہ ’’آج میری بھوک ہڑتال کا۱۷؍ واں دن ہے۔ سلائن ہٹانے کے بعد میرا پیٹ پھر سے جلنے لگا ہے۔ میں تقریباً اکیلا ممبئی کیلئے روانہ ہو جاؤں گا، میرے ساتھ صرف چار یا پانچ ساتھی ہوں گے ۔میں ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہوسکتا اس لئے راستے میں خیرمقدم کی تقریبات کا اہتمام نہ کریں۔ اگر مجھ میں طاقت ہے تو میں عوام سے بات کروں گا۔ آپ مجھ سے آکر مل سکتے ہیں۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہو سکتی ہے۔ سڑکوں پر آؤ اور مجھے آشیرواد دو لیکن ابھی ممبئی مارچ میں شامل نہ ہوں۔ گوداوری علاقے اور مہاراشٹر کیلئے یہ میری آخری وداعی ہو سکتی ہے۔جرنگے پاٹل نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مراٹھا تحریک کو کمزور کرنے کیلئے سیاسی حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ سماج کو حکومت کے ہر اقدام کا جواب دینا ہوگا۔ مراٹھا تحریک کو بدنام کرنے اور دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن برادری کو متحد رہنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مراٹھا سماج میں قیادت کی کمی نہیں ہے۔ ایک لیڈر چلا گیا تو دوسرا ابھرے گا۔ انہوں نے سماج سے اپیل کی کہ وہ اس شخص یا پارٹی کی حمایت کریں جو ریزرویشن دلانے میں مدد کرتا ہے۔ سماج کا مستقبل محض ذاتی سیاسی انتخاب سے محفوظ نہیں ہوگا۔
منوج جرنگے پاٹل ممبئی میں احتجاج کیلئے پولیس کی جانب سے مسلسل دو مرتبہ اجازت مسترد کئے جانے کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے منگل کو انتروالی سراٹی سے ممبئی کیلئےروانہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ۲؍ دن سے پانی پینے اور علاج کرانے سے انکار کے باعث ان کی طبیعت انتہائی ناساز بتائی جارہی ہے۔ تاہم انہوں نے ممبئی جانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
منوج جرنگے پاٹل کی جانب سے ’ممبئی چلو‘ کی اپیل کے بعد انتروالی سراٹی میں ان کی حمایت کیلئے مراٹھا افراد کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ روانگی سے قبل جرنگے پاٹل نے انتروالی سراٹی کے ہنومان مندر میں درشن کئے۔ اس موقع پر خواتین نے ان کی آرتی اتار کر انہیں رخصت کیا جس کے بعد وہ ممبئی کی جانب روانہ ہوگئے۔منو ج جرنگے پاٹل کے ممبئی کوچ کے دوران ان کے پہلے قیام کی جگہ بیڑ ضلع کا پٹوڈا ہوگی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ تقریباً پانچ روز کے سفر کے بعد ممبئی پہنچیں گے۔ ان کے سفر کے دوران حفاظتی انتظامات کے تحت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:مکہ مکرمہ کے قریب حوثیوں کا ڈرون مار گرایا گیا، سعودی عرب کی سخت وارننگ
دریں اثنا، ممبئی پولیس نے گنیش اتسو اور امن و قانون کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے جرنگے پاٹل کے احتجاج کو دو مرتبہ اجازت دینے سے انکار کیا ۔ تاہم جرنگے پاٹل اور چند وکلاء نے آزاد میدان پولیس سے تیسری مرتبہ اجازت کیلئے درخواست دی ہے۔ اس درخواست میں جرنگے پاٹل اور ان کے۴؍ سے۵؍ ساتھیوں کو احتجاج کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مراٹھا مظاہرین کو امید ہے کہ اس مرتبہ اجازت مل سکتی ہے۔پولیس کی جانب سے اجازت مسترد کیے جانے کے بعد مراٹھا مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق ممبئی جائیں گے اور گنیش اتسو کے درشن سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ جب جرنگے پاٹل انہیں بلائیں گے تو وہ آزاد میدان میں جمع ہوں گے۔
’’سب نے مراٹھا سماج کو دھوکہ دیا ہے‘‘
ممبئی روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منوج جرنگے پاٹل نے الزام عائد کیا کہ ’’سب نے مراٹھا سماج کو دھوکہ دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مراٹھا برادری سے متحد رہنے اور تحریک کے دوران امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ حکومت کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں اور سماج کے بچوں کے مستقبل اور فلاح و بہبود کیلئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
منوج جرنگے سے گفتگو کی جائے: روہت پوار
دریں اثنا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار ) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ منوج جرنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کے پس منظر میں حکومت کو فوری طور پر بات چیت کرکے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے۔روہت پوار کے مطابق بھوک ہڑتال کی وجہ سے جرنگے پاٹل کی صحت کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے جبکہ احتجاجی مقام پر آنے جانے والے شہریوں اور مظاہرین کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور جرنگے پاٹل کو باہمی گفتگو کے ذریعے آئندہ کی تحریک کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔روہت پوار نے گزشتہ احتجاج کے دوران مقامی شہریوں اور مظاہرین کو پیش آنے والی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مقام پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند تھے، چائے اور پانی کی سہولت دستیاب نہیں تھی اور بیت الخلاء کے مناسب انتظامات بھی نہیں کئے گئے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منوج جرنگے پاٹل سے گفتگوکی جائے اور مسئلے کا مناسب حل نکالا جائے۔