Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں ۲۰۲۴ء کے دوران ۵ء۲ کروڑ سےزائد پیدائشیں ریکارڈ، شیرخوار بچوں کی اموات ریکارڈ حد تک کم: رپورٹ

Updated: July 16, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi

۱۸ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے پیدائشوں کے ۱۰۰ فیصد رجسٹریشن کا ہدف حاصل کیا، جبکہ ۲۱ ریاستوں نے اموات کے ۱۰۰ فیصد رجسٹریشن کا سنگ میل حاصل کیا۔ مغربی بنگال، مہاراشٹر، تمل ناڈو، کرناٹک، راجستھان، بہار، گجرات، پنجاب اور ہریانہ نے ۱۳ ریاستوں نے پیدائش کے ۹۰ فیصد سے زیادہ رجسٹریشن کا ہدف حاصل کیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے دفتر کی جانب سے جولائی ۲۰۲۶ء میں جاری کی گئی ’سول رجسٹریشن سسٹم‘ (CRS) کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں ۲۰۲۴ء کے دوران دو کروڑ ۵۴ لاکھ ۷۳ ہزار ۳۸۹ پیدائشیں اور ۸۹ لاکھ ۳۸ ہزار ۳۰۱ اموات رجسٹر کی گئیں۔ ۲۰۲۳ء کے مقابلے، ملک میں پیدائش اور اموات کے رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲۳ء میں ۲ کروڑ ۵۲ لاکھ ۷ ہزار ۷۰ پیدائشیں اور ۸۶ لاکھ ۵۹ ہزار ۶۷۹ اموات رجسٹر کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق، ملک میں ۲۰۲۴ء کے دوران ۱ء۹۹ فیصد پیدائشیں اور ۴ء۹۹ فیصد اموات کا اندراج کیا گیا۔ ۱۸ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے پیدائشوں کے ۱۰۰ فیصد رجسٹریشن کا ہدف حاصل کیا، جبکہ ۲۱ ریاستوں نے اموات کے ۱۰۰ فیصد رجسٹریشن کا سنگ میل حاصل کیا۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں سے ۱۳ ریاستوں نے پیدائش کے ۹۰ فیصد سے زیادہ رجسٹریشن کا ہدف حاصل کیا۔ ان ریاستوں میں مغربی بنگال، مہاراشٹر، تمل ناڈو، کرناٹک، راجستھان، بہار، گجرات، پنجاب اور ہریانہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: الیکشن سے قبل ۲۷؍ لاکھ ووٹروں کے نام حذف،۷۰؍ فیصد مسلمان: رپورٹ

شیرخوار بچوں کی اموات اور صنفی تناسب پر اہم نتائج

۲۰۲۳ء میں شیرخوار (ایک سال سے کم عمر) ۱۴۵۹۹۲ اموات ریکارڈ کی گئی تھی جو ۲۰۲۴ء میں تیزی سے کم ہو کر ۱۲۰۹۹۲ رہ گئیں۔ یہ کل اموات کا ۴ء۱ فیصد بنتی ہیں، جبکہ ۲۰۲۳ء میں یہ شرح ۷ء۱ فیصد تھی۔ مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد بھی ۰۱ء۱ لاکھ سے کم ہو کر ۸۱۱۱۷ رہ گئی، جن میں سے ۶۹ فیصد شہری علاقوں میں اور ۳۱ فیصد دیہی علاقوں میں رپورٹ ہوئیں۔

قومی سطح پر پیدائش کے وقت صنفی تناسب ۱۰۰۰ لڑکوں کے مقابلے میں ۹۳۳ لڑکیاں رہا۔ اروناچل پردیش میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے، لڑکیوں کی پیدائش کا تناسب سب سے زیادہ ۱۰۵۰ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈمان اور نکوبار جزائر میں ۹۸۴، میگھالیہ میں ۹۷۴، میزورم میں ۹۷۲ اور کیرالا میں ۹۷۰ رہا۔ سب سے کم تناسب ناگالینڈ (۸۰۶)، لکشدیپ (۸۶۵) اور جھارکھنڈ (۸۹۰) میں ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد میں ۲؍ کروڑ سے زائد مالیت کا غیر معیاری خوردنی تیل ضبط

سکم کو چھوڑ دیا جائے تو رجسٹرڈ پیدائشوں میں اسپتالوں یا طبی مراکز میں ہونے والی پیدائشوں کا تناسب ۴ء۷۹ فیصد رہا۔ پیدائشوں میں شہری علاقوں کا حصہ ۱ء۵۷ فیصد رہا جبکہ دیہی علاقوں میں اموات کا تناسب ۲ء۵۷ فیصد رہا۔ ملک کی آبادی میں مجموعی قدرتی اضافہ (gross natural addition)، جس کا حساب رجسٹرڈ پیدائشوں میں سے رجسٹرڈ اموات کو منہا کرکے لگایا گیا، تقریباً ۶۵ء۱ کروڑ رہا۔

ان اصلاحات کا سہرا ’رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس ایکٹ ۱۹۶۹ء کے سر جاتا ہے، جس میں ۲۰۲۲ء میں ترمیم کی گئی تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے ڈجیٹل رجسٹریشن، الیکٹرانک سرٹیفکیٹ کی فراہمی، تاخیر سے ہونے والی رجسٹریشن کے آسان طریقۂ کار اور طبی اداروں سے موت کی وجہ کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، بروقت رجسٹریشن کے حوالے سے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، کیونکہ کئی ریاستیں لازمی ۲۱ دن کی مدت کے اندر ۸۰ فیصد سے بھی کم واقعات درج کر پاتی ہیں اور مختلف ریاستوں میں جرمانے کے نفاذ میں عدم تسلسل پایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK