Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان سانپ کاٹنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے مقام پر، ہر سال ۱۳؍ لاکھ معاملے

Updated: August 26, 2026, 7:59 PM IST | London

ہندوستان سانپ کاٹنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے مقام پر ہے، جہاں سانپ کاٹنے کے ۱۳؍ لاکھ معاملات درج کئے گئے،محققین کے مطابق، اموات کی شرح کم آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک تجزیے کے مطابق، دنیا بھر میں سانپ کے حملوں کی تعداد میں ہندوستان پہلے نمبر پر ہے، جہاں ہر سال۱۳؍ لاکھ معاملات درج ہوتے ہیں۔ محققین نے ۲۰۰۷ءسے مارچ۲۰۲۵ء تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا اور ہندوستان میں متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی۔ ان میں سے زیادہ تر معاملات صرف۲۰؍ ممالک تک محدود تھے۔لیورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کے سائنسدانوں کے مطابق، ہر سال تقریباً۲۱؍ سے۷۰؍ لاکھ افراد کو سانپ کاٹتے ہیں، اور اس معاملے میں ہندوستان دنیا کا دارالحکومت ہے جہاں۱۳؍ لاکھ تک معاملات ہوتے ہیں۔ جبکہ نائیجیریا دوسرے نمبر پر ۶؍ لاکھ ۶۶؍ ہزار معاملات ، انڈونیشیا۴؍ لاکھ ۹۰؍ ہزار، اور جمہوریہ کانگو میں سالانہ ۴؍ لاکھ ۶۷؍ ہزار سانپ کے حملے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کنال چاہتا تھاکہ بس اس کے والد گھر آجائیں‘‘

محققین کے مطابق، اموات کی شرح کم آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ تھی، جہاں ذیلی صحارا افریقہ میں عالمی سطح پر سانپ کاٹنے اور متعلقہ اموات کا۴۵؍ فیصد حصہ ہے۔ یہ شرح جنوبی ایشیا میں مشاہدہ کی جانے والی شرح سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ تخمینے انتہائی کم اور درست نہیں تھے۔مرکزی مصنف دیلیپا ایڈیری ویرا نے PLOS Medicine میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سانپ کے زہر (Snake Envenoming) کو ایک اہم صحت عامہ کا مسئلہ قرار دیا۔ ماضی میں سانپ کے کاٹنے اور انسانوں کو نگلنے والے جانوروں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں پچھلے سال اور اس سال کے کچھ واقعات بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان کی تعداد کا اندازہ لگانا اب بھی ایک چیلنج رہا ہے۔ اس تحقیق کے لیے محققین نے جنوری۲۰۰۷ء سے مارچ۲۰۲۵ء کے درمیان۷۹؍ ممالک کے سانپ کاٹنے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ان کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہر سال۲۱؍ سے ۷۰؍ لاکھ سانپ حملے ہوتے ہیں، جن میں سے۷۵؍ فیصد صرف۲۰؍ ممالک میں ہوتے ہیں۔ ہندوستان اس میں  سرفہرست ہے، جہاں ۴؍ لاکھ ۹؍ ہزار سے ۱۳؍ لاکھ حملے ہوتے ہیں۔  جبکہ دوسرے نمبر پر نائیجیریا میں ایک لاکھ ۹۸؍ ہزار سے ۶؍ لاکھ ۶۶؍ ہزار واقعات ہوتےہیں۔ برازیل ۴۸؍ ہزار سے ایک لاکھ ۶۲؍ ہزار، ویت نام ۳۳؍ ہزار ۵۰۰؍ سے ایک لاکھ ۱۳؍ ہزار ، چین ۲۸؍ ہزار ۹۰۰؍ سے ۹۷؍ ہزار ۴۰۰؍، بھی ٹاپ۲۰؍ کی فہرست میں شامل تھے۔ان واقعات سے ہر سال مجموعی طور پر۲,لاکھ ۷۴؍ ہزار سے ۵؍ لاکھ ۱۳؍ ہزار اموات ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ساؤجی ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی، لائسنس معطل

تاہم، محققین نے وضاحت کی کہ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر کم تخمینے ہیں اور اصل معاملات اور اموات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے تحقیق میں لکھا، ’’حقیقی اعداد و شمار کافی زیادہ ہو سکتا ہے، ممکنہ طور پر زہر کے واقعات تین گنا تک اور اموات دو گنا تک زیادہ ہو سکتی ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK