`دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹرمپ کی مودی کو مبارکباد والی پوسٹ امریکی لابنگ فرم نے انجام دی،اخبار کے مطابق ہندوستانی سفارت خانے نے دو بڑی لابنگ فرم کرائے پر لی تھیں جن کے سربراہان امریکی صدر کے اندرونی حلقے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 1:58 PM IST | New Delhi
`دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹرمپ کی مودی کو مبارکباد والی پوسٹ امریکی لابنگ فرم نے انجام دی،اخبار کے مطابق ہندوستانی سفارت خانے نے دو بڑی لابنگ فرم کرائے پر لی تھیں جن کے سربراہان امریکی صدر کے اندرونی حلقے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ امریکی لابنگ فرم مرکری پبلک افیئرز نے اپنے عوامی انکشاف میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو جون میں ہندوستان کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دینے والی سوشل میڈیا پوسٹ ان کاموں میں شامل تھی جو اس نے ہندوستانی سفارت خانے کے ساتھ اپنی ماہانہ ریٹینر شپ کے حصے کے طور پر انجام دیے تھے۔واضح رہے کہ امریکی سیاست میں لابنگ افراد یا مفاداتی گروپوں کا سرکاری عہدیداروں کے ذریعے کیے گئے قانون ساز، انتظامی یا ریگولیٹری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کا عمل ہے۔ٹرمپ کے جنوری۲۰۲۵ء میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد، واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے نے دو بڑی لابنگ فرمیں کرائے پر لیں جن کے سربراہان امریکی صدر کے اندرونی حلقے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بیڑ: فرضی کھلاڑیوں کے ریکٹ کا پردہ فاش کرنیوالے نوجوان کی لاش برآمد
فرموں میں سے ایک مرکری پبلک افیئرز تھی، جسے۷۵۰۰۰؍ ڈالر ماہانہ ریٹینر، یا تقریباً۷۰؍ لاکھ روپے پر سائن کیا گیا، جس کے ساتھ برائن لانزا تھے، جو ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر تھے۔صدارتی ٹرانزیشن ٹیم وہ تنظیم ہے جو نو منتخب صدر کی طرف سے الیکشن جیتنے کے بعد امریکی حکومت کی ایگزیکٹو برانچ کا چارج سنبھالنے کی تیاری کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کی سابق چیف آف اسٹاف سوزی وائلز بھی۲۰۲۴ء کے آخر تک فرم کے ساتھ رجسٹرڈ لابی ساز تھیں۔دریں اثناءکمپنی نے اس ریٹینر شپ کے بارے میں معلومات امریکی محکمہ انصاف کو فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اپنی فائلنگ میں ظاہر کیں۔ یہ ایکٹ ان لوگوں اور تنظیموں سے جو لابنگ کرتے ہیں، یا غیر ملکی حکومتوں، جماعتوں یا پرنسپلز کی جانب سے کام کرتے ہیں، اپنے تعلقات، سرگرمیوں اور مالی معاوضے کا عوامی انکشاف کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مزید برآں اخبار کے مطابق دوسری لابنگ فرم جسے ہندوستانی سفارت خانے نے کرائے پر لیا وہ SHW پارٹنرز LLC تھی، جس کے سربراہ ٹرمپ کے معاون جیسن ملر ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانے کا ملر کے ساتھ معاہدہ۱۵۰۰۰۰؍ ڈالر ماہانہ ادائیگی، یا تقریباً ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ روپے پر مشتمل تھا۔اخبار نے اس کی فائلنگ کے حوالے سے بتایا کہ کمپنی کے کام کے دائرہ کار میں ’’امریکی حکومت، امریکی کانگریس، ریاستی حکومتوں، تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس، اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے سامنے پالیسی معاملات پر اسٹریٹجک مشاورت، ٹیکٹیکل منصوبہ بندی اور حکومتی تعلقات کی معاونت شامل تھی۔‘‘SHW پارٹنرز LLC نے یہ بھی بتایا کہ اس نے مئی میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہندوستان کے دورے سے قبل نئی دہلی اور سینئر امریکی سرکاری عہدیداروں کے درمیان فون رابطے کا اہتمام کیا۔علاوہ ازیں کمپنی نے مبینہ طور پر۲۳؍ مئی اور۲۴؍ مئی کو روبیو کے ساتھ دو سفارت خانے کی تقریبات بھی درج کیں، جب وہ ہندوستان میں تھے اور امریکی سفارت خانے کی میزبانی میں’’America@250‘‘تقریبات میں شرکت کی۔اخبار نے رپورٹ کیا کہ ملر بھی اسی وقت نئی دہلی میں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: شکست کے بعد ٹرمپ کو استعفوں کا سامنا، ہرمیت ڈھلون مستعفی
بعد ازاں دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے، کانگریس میڈیا کوآرڈینیٹر ہرمیت کور نے پوچھا کہ ہندوستانی ٹیکس دہندگان کو بدلے میں کیا مل رہا ہےجب مرکزی حکومت امریکی لابنگ فرموں پر ماہانہ۲۲۵۰۰۰؍ ڈالر، یا۲؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔کور نے پوچھا، ’’امریکی صدر کی خریدی گئیمبارکبادکی سوشل میڈیا پوسٹ کی کیا ضرورت تھی؟‘‘