• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت ہند کی میٹا کو ہدایت، الگورتھمز کسی ایک بیانیے کو غیر متناسب طور پر فروغ نہ دیں

Updated: October 19, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

مرکزی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا سے کہا ہے کہ وہ اپنے سفارشاتی الگورتھمز کا جائزہ لے اور گمراہ کن یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے والے مواد کو بار بار صارفین تک پہنچانے سے روکے۔ حکومت نے عوامی تقریبات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور دیگر مواد کے ساتھ مناسب پس منظر فراہم کرنے اور تشدد یا بدامنی کو ہوا دینے والے مواد کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

Meta. Image: INN
میٹا۔ تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا سے کہا ہے کہ اس کے سفارشاتی الگورتھمز صارفین کو کسی ایک یا محدود بیانیے سے متعلق مواد غیر متناسب طور پر نہ دکھائیں، بلکہ انہیں متعلقہ اور قابلِ اعتماد معلومات کے مختلف پہلوؤں تک رسائی فراہم کریں۔ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ۱۰؍ اکتوبر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی شناخت اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے جو عوامی بدامنی، تشدد یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو ہوا دے سکتا ہے۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت میں احتجاج جاری ہیں اور مظاہرین انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، ایڈوائزری میں ان احتجاجوں کو اس اقدام کی مخصوص وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست کا پہلا ریلوے کولڈ اسٹوریج رتنا گیری میں قائم ہوگا

پی ٹی آئی کے مطابق، وزارت نے میٹا سے کہا ہے کہ وہ اپنے مواد کی سفارش اور درجہ بندی کے نظام کا جائزہ لے تاکہ ممکنہ طور پر گمراہ کن، تبدیل شدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے والے مواد کو غیر متناسب طور پر فروغ ملنے اور صارفین کو بار بار تجویز کیے جانے سے روکا جا سکے۔ وزارت کے مطابق، سفارشاتی نظاموں کے نتیجے میں صارفین کو کسی ایک یا محدود بیانیے سے متعلق مواد ضرورت سے زیادہ نہیں دکھایا جانا چاہیے، بلکہ انہیں متعلقہ اور قابلِ اعتماد معلومات کا مناسب تنوع فراہم کیا جانا چاہیے۔ ایڈوائزری میں عوامی تقریبات اور جاری واقعات سے متعلق تصاویر، ویڈیوز، گرافکس اور دیگر مواد کے ساتھ مناسب پس منظر فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، خصوصاً ان حالات میں جب مواد کی حقیقت، تاریخ، مقام یا اسے ریکارڈ کیے جانے کے حالات صارفین کے لیے واضح نہ ہوں۔ وزارت نے ایسے مواد کی فوری شناخت، جانچ اور متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے مضبوط نظام بنانے کی ہدایت بھی دی ہے جسے سفارشاتی الگورتھمز کے ذریعے وسیع پیمانے پر صارفین تک پہنچایا جا رہا ہو اور جس سے عوام میں الجھن، خوف، تشدد یا امن و عامہ میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

وزارتِ آئی ٹی کے ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ حکومت کو مختلف ایجنسیوں سے ایسی رپورٹس موصول ہوئی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر مختلف بیانیوں کو یکساں انداز میں فروغ نہیں مل رہا۔ ذرائع کے مطابق، الگورتھمز بعض اقسام کے مواد کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ وزارت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ عوامی تقریبات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق ویڈیوز، تصاویر، بیانات اور گرافکس کو میٹا کے پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر دکھایا اور صارفین کو تجویز کیا جا رہا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اگر ایسے مواد کو مناسب پس منظر کے بغیر پیش کیا جائے یا اسے سفارشاتی نظاموں کے ذریعے غیر متناسب طور پر پھیلایا جائے تو عوامی الجھن، خوف اور سماجی سکون میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ ایڈوائزری میں میٹا سے کہا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر ایسے پرانے یا غیر متعلقہ بصری مواد پر توجہ دے جسے موجودہ واقعات کی تصاویر یا ویڈیوز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ منتخب انداز میں ایڈٹ کی گئی فوٹیج، ہنگامی حالات، پابندیوں، پولیس کارروائی یا دیگر سرکاری اقدامات سے متعلق غیر مصدقہ اور گمراہ کن دعوؤں کی بھی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزارت نے ایسے آڈیو ویژول مواد کا بھی ذکر کیا ہے جو قانون و ضابطے کی صورتحال کے بارے میں مناسب پس منظر کے بغیر پیش کیا جائے، تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں کو ہوا دے یا جسے سفارشاتی نظاموں کے ذریعے غیر معمولی طور پر زیادہ پھیلایا جا رہا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد: خودکشی سے قبل خاتون کا دوست کو بھیجا گیا پیغام سامنے آیا

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء اور آئی ٹی رولز ۲۰۲۱ء کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ایک انٹرمیڈیئری کے طور پر میٹا پر ان قواعد کے تحت مقررہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان قواعد میں پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کو ممنوعہ معلومات سے متعلق مطلع کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں، جن میں ایسا مواد شامل ہو سکتا ہے جو عوامی بدامنی کا سبب بنے یا امن و عامہ سے متعلق کسی قابلِ دست اندازی جرم کو ہوا دے۔ وزارت نے کمپنی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مجاز سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ بروقت تعاون کرنے کی ہدایت بھی دی ہے، جس میں قابلِ اطلاق قوانین کے تحت مقررہ مدت میں معلومات یا معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔ ایڈوائزری میں مجموعی طور پر چھ مطالبات شامل ہیں۔ ان میں متعلقہ قوانین کے دائرے میں آنے والے مواد کی شناخت اور اس سے نمٹنے کے اقدامات، سفارشاتی اور درجہ بندی کے نظاموں کا جائزہ، گمراہ کن یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے والے مواد کی غیر متناسب تشہیر کو روکنا، عوامی امن و امان کو متاثر کرنے والے مواد کی فوری جانچ اور مجاز سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہیں۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ ایڈوائزری کا مقصد قانونی اظہارِ رائے اور جائز عوامی بحث کا احترام کرتے ہوئے معلومات کی ذمہ دارانہ ترسیل اور سفارش کو فروغ دینا ہے۔ اس نے میٹا سے فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے اور وزارت کو ان سے آگاہ کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مروڈ جنجیرہ قلعہ کی تاریخ بتانے والاکوئی گائیڈ نہیں، سیاح ناراض

دوسری جانب، ڈجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹر اپار گپتا نے ایڈوائزری کی قانونی حیثیت اور اس کے اظہارِ رائے پر ممکنہ اثرات پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایڈوائزری قانونی طور پر لازمی نہیں ہے، لیکن یہ ایک ’’مسلسل سنسرشپ کی ہدایت‘‘ کے مترادف ہے۔ اپار گپتا نے وزارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایڈوائزری واپس لے، جب کہ میٹا سے اپیل کی کہ وہ اس کے تحت ہٹائے گئے یا ان کی رسائی کم کیے گئے تمام مواد کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری کرے۔ اپار گپتا نے ایڈوائزری میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق، ’’مناسب پس منظر کے بغیر‘‘ پیش کیے جانے والے مواد اور ’’اعلیٰ عوامی نظم و ضبط کی حساسیت‘‘ کے ادوار جیسی عبارتوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ یا آئی ٹی رولز کی کسی مخصوص شق سے منسلک نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی غیر واضح اصطلاحات کے استعمال سے مواد کو ہٹانے یا اس کی رسائی محدود کرنے کے فیصلوں کے قانونی جواز اور شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK