مسافروں نے کہا’’ شادی بیاہ اوربقرعید پر وطن جانے کیلئے کوشاں ہیں‘‘،یہ بھی سوال کیا کہ کیا محض یہ کہہ دینا کہ ویٹنگ ٹکٹ والے مسافر ریزرویشن ڈبے میں نہ چڑھیں ورنہ انہیں اگلے اسٹیشن پراتار دیاجائے گا،مسئلے کا حل ہے؟
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 10:16 PM IST | Mumbai
مسافروں نے کہا’’ شادی بیاہ اوربقرعید پر وطن جانے کیلئے کوشاں ہیں‘‘،یہ بھی سوال کیا کہ کیا محض یہ کہہ دینا کہ ویٹنگ ٹکٹ والے مسافر ریزرویشن ڈبے میں نہ چڑھیں ورنہ انہیں اگلے اسٹیشن پراتار دیاجائے گا،مسئلے کا حل ہے؟
طویل مسافتی ٹرینوں کے کنفرم ٹکٹ نہ ملنے سے مسافر اب بھی پریشان ہیں۔مسافروں نے بات چیت کے دوران ریلوے انتظامیہ پر برہمی کااظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بغیر انتظام کئے کیا محض ویٹنگ ٹکٹ والے مسافر ریزرویشن ڈبے میں نہ چڑھیں، ورنہ اگلے اسٹیشن پر اتار دیا جائے گا، بار بار اعلان کر کے محض یہ انتباہ دینا مسئلے کا حل ہے یا اس کے لئے انتظام کیا جانا ضروری ہے تاکہ ویٹنگ لسٹ والے مسافر ریزرویشن ڈبے میں سوار ہی نہ ہوں۔ اس وقت شادی بیاہ کے لئے اور بقرعید قریب آنے کے سبب مسافر اپنے وطن جانے کے لئے کوشاں ہیںمگرکنفرم ٹکٹ نہ ملنا ا ن کے لئے بڑامسئلہ ہے ۔
محمدراشد سلمانی نے بتایاکہ ’’
کافی کوشش کےباوجود ٹکٹ نہیںملا، انہیں اپنے گاؤں بستی جاناہے ،خاندان میں شادی بھی ہے اور بقرعید بھی وہ والدین کے ساتھ کرناچاہتے ہیں۔ ‘‘ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ’’ ریلوے اسٹیشن پرمسلسل یہ اعلان کیاجارہا ہے کہ ریزرویشن ڈبے میںویٹنگ ٹکٹ والےمسافر سوار نہ ہوں، ورنہ انہیںاتاردیاجائے گا۔ کیا یہ اعلان کافی ہے یا ریلوے کو یہ بات یقینی بنانا چاہئے کہ ہر مسافر کوکنفرم ٹکٹ ملے۔‘‘ایک اور مسافر عبدالرحمٰن خان نے بھی اسی طرح کی شکایت کی ۔ ان کا کہنا تھاکہ’’کوئی مسافر نہیںچاہتا کہ وہ ریزرویشن ٹکٹ کی قیمت دے کر ویٹنگ ٹکٹ لے مگرمجبوراً ایسا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ’’خواتین کا تحفظ اوران کا وقار بحال رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری‘‘
اس لئے اعلان کرنے کےبجائے ریلوے انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ویٹنگ ٹکٹ لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ ایک ٹکٹ ایجنٹ نے بتایا کہ’’ یوپی اور بہار جانےوالی گاڑیاں اگلے مہینے تک فل ہیں۔ گرمی کی چھٹی چل رہی ہے،شادی بیاہ کا موسم ہے اور بقرعید بھی قریب ہے۔ ایسے میںجب ساری گاڑیاںفل ہیں تو آخر لوگ کیسے جائیںگے۔ ریلوے انتظامیہ کو مسافروں کی ضرورت کے پیش نظراضافی گاڑیاں چلانی چاہئے تاکہ لوگ پریشان نہ ہوں، آسانی سے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ مگر ہر سال یہی حالات رہتے ہیں ، مسافر پریشان ہوتے ہیںاورریلوے کی جانب سے ویکلی اسپیشل گاڑیوں کا حوالہ دے کرمسافروں کی تعداد بتادی جاتی ہے کہ اتنےکروڑ لوگوں نے فائدہ اٹھایا مگر کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنی بڑی تعداد میں مسافر پریشان ہوئے اورکنفرم ٹکٹ سے محروم رہے یا مجبوراً ایجنٹوں کا سہارا لیا۔‘‘ریلو ے کے ایک افسر کےمطابق ’’ ویٹنگ لسٹ والو ں کو ریزرویشن ڈبے میںچڑھنے سے اس لئے منع کیا جاتا ہےکہ ۲؍ ماہ قبل ریزرویشن کرانے والے مسافروں کودقت ہوتی ہے۔ مگران کے پاس اس کا جواب نہیں تھا کہ سب کو کنفرم ٹکٹ دینے میں ریلوے کیوں ناکام ہےاوربرسوں پرانا یہ مسئلہ حل کیوں نہیں کیا جاتا ۔‘‘