Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’خواتین کا تحفظ اوران کا وقار بحال رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری‘‘

Updated: May 15, 2026, 10:59 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

’خواتین کا وقار خطرے میں، معاشرہ، میڈیا اور ریاست کی ذمہ داریاں‘ عنوان پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کی پریس کانفرنس۔

A view of the press conference held at the Press Club. Photo: INN
پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

’’خواتین کا تحفظ اور ان کا وقاربحال رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ محض کوئی نعرہ نہیںبلکہ اس کی ڈیوٹی ہے۔ ‘‘جماعت اسلامی خواتین ونگ کی جانب سے جمعرات کو پریس کلب میں ’خواتین کا وقار خطرے میں، معاشرہ، میڈیا اور ریاست کی ذمہ داریاں‘ عنوان پر پریس کانفرنس کا انعقادکیا گیا۔ اس موقع پر الگ الگ شعبے کی خواتین نے  مذکورہ موضوع پر روشنی ڈالی ۔ 

آدرش فاؤنڈیشن کی صدر سجاتا ساونت نے اس تعلق سے معاشرے کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’’خواتین کی حفاظت کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘خالصہ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سریندر کور نےکہاکہ ’’ تعلیمی اداروں میں طالبات کے تحفظ اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہیتاکشی شاہ نے میڈیا کے رول پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’’میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنسنی پھیلانےکے بجائے اخلاقی اقدار کو فروغ دینے میں اپنا مثبت رول ادا کرے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’نالے صفائی کے نام پر آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے‘‘

صابو صدیق ٹیکنیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر زیب النساء ملک نے کہاکہ ’’ کام کاج کی جگہوں پر خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے،یہ شکایت بار بار سامنے آتی ہے ، اس پرروک تھام اور پیشہ ورانہ وقار کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

سماجی کارکن ورجینیا سلڈانہ نے خواتین کی سیاسی اور سماجی شرکت میں حائل رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ یہ بڑامسئلہ ہے ،اس پرسنجیدگی سے غور کرنے اور اسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ 

ایڈوکیٹ نرنجنی شیٹی نے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ’’خواتین کے خلاف جرائم میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ختم کی جائے۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹ نہ ہونے پر یکم جولائی سے جرمانہ عائد ہو گا

ریحانہ دیشمکھ (سیکریٹری حلقہ خواتین، جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو) نے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کی تذلیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ ان تمام خواتین نے مشترکہ طور پر کہا کہ کسی بھی معاملے میں میڈیا ٹرائل متاثرین کے لئے مزید تکلیف کا باعث ہوتاہے،میڈیا اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔ڈاکٹر فریدہ اختر نے رسمِ شکریہ ادا کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK