• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی بہن نے اپنے بنگلہ دیشی بھائی کو گردہ عطیہ کیا

Updated: February 12, 2026, 7:54 PM IST | Kolkata

حال ہی میں گردہ ٹرانسپلانٹ کا ایک واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک ہندوستانی بہن نے اپنے بنگلہ دیشی بھائی کو اپنا گردہ عطیہ کیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرحد پار گردہ ٹرانسپلانٹ کا مشرقی ہند میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بنگلہ دیش کے ایک ۴۳؍ سالہ مچھلی فروش سوپن کو جب گردے کی ضرورت پڑی تو ہندوستان میں رہنے والی اس کی بڑی بہن نے اسے فوراً اپنا ایک گردہ عطیہ کر دیا۔ سوپن کی ۳؍ جنوری کو گردہ ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری ہوئی اور اسے اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ جب ان دونوں کے والدین ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران ہندوستان بھاگ آئے تھے تو اس وقت انوپا ان کی گود میں تھی۔ بنگلہ دیش کے ستکھیرا میں اپنے آبائی گھر لوٹنے سے پہلے اس خاندان نے برسوں تک بردوان میں پناہ لی تھی۔ انہوں نے اپنے تین دیگر بچوں کے ساتھ بنگلہ دیش روانہ ہونے سے پہلے بردوان میں ایک شخص سے انوپا کی شادی کر دی تھی۔ سوپن نے یاد کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس وقت بچہ ہی تھا جب حالات بہتر ہونے کے بعد ہم بنگلہ دیش واپس آئے، اپنی بہن کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ اس وقت تک وہ شادی شدہ تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دور درشن کی ممتاز نیوزریڈر سرلا مہیشوری کا ۷۱؍ برس کی عمر میں انتقال

سوپن ۲۰۱۸ء میں آخری مرحلے کے گردہ فیل ہونے کے بعد سے باقاعدگی سے ڈائیلاسز پر تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی طبی حالت کی وجہ سے اپنی روزی روٹی بھی کھو دی۔ ان کی تین بہنیں، ایک ہندوستان میں اور دیگر دو بنگلہ دیش میں، اس کی مالی مدد کرتی تھیں۔ لیکن جب آر این ٹیگور انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیئک سائنس (آر ٹی آئی آئی سی ایس) اسپتال کے ڈاکٹروں نے گردہ بدلنے کی بات کہی تو گردہ عطیہ کرنے کیلئے سب سے پہلے اس کی ۵۵؍ سالہ بہن انوپا آگے آئی۔ڈاکٹروں نے بھائی اور بہن کے درمیان ۱۰۰؍ فیصد جینیاتی مماثلت پائی، جس سے وہ ایک بہترین عطیہ دہندہ وصول کنندہ جوڑا بنے۔ اگرچہ خون کے رشتے کیلئے  گردہ دینا نایاب نہیں ہے، لیکن یہ مشرقی ہندوستان میں گردہ کے آپریشن کا پہلا واقعہ تھا جس میں سرحد پار سے وصول کنندہ اور عطیہ دہندہ شامل تھے۔ سوپن اور انوپا کو ٹرانسپلانٹ کیلئے این او سی حاصل کرنے کیلئے ایک طویل دستاویزی طریقہ کار سے گزرنا پڑا۔ عطیہ دہندہ کی بیٹی اور وصول کنندہ کی بھانجی شرمیتھا بسواس نے کہا، ’’قانونی دستاویزات بنوانے میں کافی وقت لگا، کیونکہ یہ ممکنہ طور پر گردہ کے سرحد پار عطیہ کرنے کا پہلا کیس تھا، لیکن ٹرانسپلانٹ ٹیم، خاص طور پر اسپتال کیلئے بین الاقوامی مریضوں کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر پرتیک داس اور جینتا مکھرجی نے این او سی حاصل کرنے میں ہماری مدد کی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وزیر اعلیٰ ہیمنت شرما کا مسلمانوں پر گولی چلانے والا ویڈیو ’غیرقانونی‘ تھا: آسام بی جے پی کا دعویٰ

ٹرانسپلانٹ ایک ٹیم نے کیا جس میں ماہر امراض گردہ پرتیک داس، رینل ٹرانسپلانٹ سرجن ترشید علی جہانگیر اور دیگر شامل تھے۔ عطیہ دہندہ کو ٹرانسپلانٹ کے ایک ہفتے بعد ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ وصول کنندہ کو کچھ دنوں بعد نکالنے کیلئے موزوں قرار دیا گیا۔ سوپن ڈاکٹروں کی نگرانی میں مزید چند ہفتے کلکتہ میں رہیں گے۔ سوپن نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ہے کہ ’’میں کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اور ان سے کہا کہ وہ مجھے میری قسمت پر چھوڑ دیں۔ لیکن میری بہن اس بات پر اڑی تھی کہ وہ میرے لئے اپنی ایک گردہ قربان کر دے گی۔ میرے بہنوئی اور بھانجی اس کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک: درگاہ میں پوجا روکنے کیلئے انتظامیہ سپریم کورٹ سے رجوع، مزار کے مذہبی تشخص کے تحفظ کا مطالبہ

آر ٹی آئی آئی سی ایس کے ڈاکٹر اور ماہر امراض گردہ نے کہا، ’’یہ ٹرانپسپلانٹ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت اور خون کا رشتہ، انسان کی بنائی ہوئی حدود کو عبور کر سکتا ہے۔ یہ مشرقی ہند کا پہلا کیس ہے۔‘‘اگرچہ بنگلہ دیش میں حالیہ ہنگامہ خیزی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات نے بھائی بہن کی جوڑی کو پریشان کر رکھا ہے، لیکن وہ پر امید ہیں کہ پڑوسی ایک بار پھر دوست بن جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK