امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ۳؍ نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 2:02 PM IST | Agency | Washington
امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ۳؍ نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج تقریباً ۹؍ ہزار مزید فوجیوں کو بحری جہازوں کے ایک گروپ کے ذریعے مشرق وسطیٰ روانہ کر رہی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق مشرق وسطیٰ جانے والے بحری جہازوں میں۷؍ ہزار سے زائد ملاح اور دو ہزار میرینز شامل ہوں گے۔
اس گروپ میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اٹرائیک گروپ شامل ہے جو حال ہی میں یو ایس ایس چوسن نامی کروزر کے ساتھ تعینات ہوا تھا۔اس کے علاوہ ’یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ‘ بھی مشرق وسطیٰ روانہ کیا گیا ہے جس میں ’یو ایس ایس جان پی مرثا‘ اور ’یو ایس ایس اینکریج‘ نامی ایمفیبیئس لینڈنگ شپ شامل ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے اے پی کو بتایا کہ اکتوبر کے اختتام تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کی بحری ناکہ بندی کے بعد آٹو اور ریلوے شعبوں پر نئی پابندیاں
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود امریکی فوجیوں کے ساتھ نئی تعیناتی کے بعد خطے میں امریکی ملاحوں اور میرینز کی تعداد۲۰؍ ہزار سے تجاوز کر جائے گی جبکہ سیکڑوں طیارے بھی وہاں موجود ہوں گے۔
امریکی بحریہ نے اپریل میں بھی مشرق وسطیٰ میں ۳؍ کریئر اسٹرائیک گروپس تعینات کئے تھے جو ۲۰۰۳ء کے بعد پہلی بار ہوا تھا۔
اس وقت ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘ اور ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ خطے میں موجود ہیں جبکہ ’یو ایس ایس باکسر ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ‘ بھی وہاں تعینات ہے۔
’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ عام طور پر بحرالکاہل میں تعینات رہتا ہے لیکن اسے ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی جگہ مشرق وسطیٰ بھیجا گیا تھا۔ ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے دوران اس کا عملہ مسلسل ۲۶۰؍ سے زائد دن سمندر میں رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری
دوسری جانب ٹائم میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔ جمعرات کو شائع ہونے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ۳؍ نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔ مزید تفصیلات بتانے کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ اپنی حکمت عملی کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کر سکتے۔
جنگ بندی کی تجویز مسترد
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے کیونکہ ان کے بقول وہ چیزیں جنہیں میں ایک سال پہلے منظور نہیں کرتا، آج بھی نہیں کروں گا۔صدر ٹرمپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اہم توانائی کی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی لیکن ان کے مطابق مجموعی تجویز کافی اچھی نہیں تھی۔