وکھرولی کے مسلمانوں کی ایک ہی مانگ،انہیں ملے ان کے حق کا قبرستان، نعرے کے ساتھ مشترکہ میٹنگ۔ احتجاجاًیکم اکتوبر کو ’ایس ‘ وارڈ تک ترنگا ریلی۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:33 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
وکھرولی کے مسلمانوں کی ایک ہی مانگ،انہیں ملے ان کے حق کا قبرستان، نعرے کے ساتھ مشترکہ میٹنگ۔ احتجاجاًیکم اکتوبر کو ’ایس ‘ وارڈ تک ترنگا ریلی۔
۶۰؍سال پرانے وکھرولی قبرستان کا مسئلہ حل کراکر دم لینے کا عہد کیا گیا۔اس تعلق سے وجے بینکٹ ہا ل ٹیگور نگر گروپ نمبر ۶؍ میں وکھرولی مجوزہ قبرستان کمیٹی کی جانب سے پیر کی شب میں ۱۰؍ بجے تک کنموار نگر، پوائی، سُروے نگر اور آئی آئی ٹی پوائی علاقے کے ذمہ داران، سماجی خدمت گاروں اور عام مسلمانوں کی میٹنگ ہوئی ۔اس موقع پر یکم اکتوبر کو جامع مسجد وکھرولی سے ’ایس وارڈ‘ تک ترنگا ریلی نکالنے کا بھی فیصلہ کیاگیا۔
ہمیں خاموش نہیں بیٹھنا ہے
اس موقع پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے اتحاد اور جہد مسلسل کا نتیجہ ہے کہ قبرستان کے لئے زمین ریزرو کرانے اوربی ایم سی سے اُس جگہ بورڈ لگوانے میں کامیابی ملی ہےمگر ابھی کام ختم نہیںہوا ہے، اسی طریقے سے پوری قوت کے ساتھ صدائے احتجاج بلند کرنے کا سلسلہ جب تک قبرستان کی تعمیر نہ شروع کردی جائے، جاری رکھنا ہے ، ہمیں خاموش نہیں بیٹھنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: موسلادھار بارش سے کئی سڑکیں زیر آب، ٹریفک متاثر
یکم اکتوبر کوترنگا ریلی
اس سے قبل ایس وارڈ آفس پردھرنا دیا گیا اورشہری انتظامیہ کوجگانے کےلئے علامتی جنازہ رکھ کر احتجاج کیا گیا، اب مشاورتی میٹنگ میں یہ طے پایا کہ اگر وعدے کے مطابق ۳۰؍ستمبر تک مشترکہ میٹنگ بلاکرقبرستان کی تعمیرکے مسئلے کوحتمی شکل نہ دی گئی تو یکم اکتوبر کووکھرولی جامع مسجد سےایس وارڈ تک ترنگا ریلی نکالی جائے گی۔ اس ریلی کا مقصد وارڈ آفیسر اور دیگرکارندوں کویہ یاد دلانا ہوگا کہ آپ نے سچا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ غلط بیانی کرتے ہوئے میٹنگ میں جھوٹی تسلی دی تھی ۔ اس لئےاب مزید شدت کے ساتھ اس مسئلے کوآگے بڑھایاجائے گا اورجب تک قبرستان کی تعمیرشروع نہیںکردی جاتی، ہم سب الگ الگ طریقوں سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:کلیان پھاٹا جنکشن پر فلائی اوور کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ بالآخر دور
میٹنگ کے شرکاء
اس میٹنگ میں عبدالرحمٰن انصاری، واجدقریشی، عبدالرحمٰن تمبولی، شمیم عرف چنٹو شیخ ، جمیل شیخ، سردار شیْخ، ریحان شیخ، عقیل شیخ ، علی مرتضیٰ شیخ، شاداب شیخ، علاء الدین شیخ، رضوان ملک، راحیل خان، نوری خان، منیراشیخ اور نذرانہ شیخ پیش پیش تھیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میںمذکورہ علاقوں کے عوام موجود تھے۔
۶۰؍برس کی کوشش مگرکوئی نتیجہ نہیں
۶۰؍ برسوں میں مختلف انداز میں مختلف گروپ کی جانب سے کوشش کی گئی، عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا گیا، سیاست بھی کارفرما رہی اورکسی نہ کسی انداز میںرخنہ اندازی بھی جاری رہی ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اب بھی وکھرولی کے مسلمانوں کو تدفین کے لئے میت گھاٹکوپر لے جانی پڑتی ہے۔بارش کے ایام میں انہیں مزید پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔