Inquilab Logo Happiest Places to Work

شدید گرمی کے پیش نظر دوپہرمیں کام نہ کرنے کی ہدایت

Updated: April 15, 2026, 11:03 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

حکومت کی جانب سے ’ایس او پی ‘ جاری ۔ پھیری والوں، تعمیراتی مزدوروں، صفائی عملہ، ٹریفک پولیس اہلکار وںاور ڈیلیوری کرنے والوں سے دوپہر ۱۲؍ بجے سے شام ۴؍ بجے تک کام نہ کرنے کو کہا گیا ۔

Workers In Dhule Doing Construction Work On A Mosque In The Scorching Sun. Photo: Ismail Shad
دھولیہ میں مزدورتیزدھوپ میں مسجد کا تعمیراتی کام کرتے ہوئے۔ تصویر:اسماعیل شاد
بڑھتے درجہ حرارت سےلوگوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس کے پیش نظر خاص طورپر  تیز دھوپ میں کام کرنے والے افرادکی تکلیف سے بچانے کیلئے ریاستی حکومت نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس اوپی) جاری کیا ہے جس کے تحت  دوپہر میں کام نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔  سڑک پر کاروبار کرنے والے، تعمیراتی مزدور، صفائی عملہ، ٹریفک پولیس اہلکار ، ڈیلیوری کرنے والوں، رکشا  ڈرائیوروں، بوجھ اُٹھانے والے مزدور، آشا اور آنگن واڑی سیویکائوں وغیرہ کو دوپہر ۱۲؍ سے شام ۴؍بجے کے درمیان کام نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔شدید گرمی سے جسم میں پانی کی کمی ہونے اور  دیگر بیماریوں سے نمٹنے کیلئے حکام کو اہم عوامی مقامات جیسے بازاروں اور ٹریفک جنکشن پر پانی کا انتظام کی ہدایت بھی دی گئی  ہے ۔ 
ریاستی حکومت نے پیر کو ایک ’ایس او پی‘ جاری کیا ہے جس کے تحت شدید گرمی اور تیز دھوپ میں خاص طور پر سڑکوں، فٹ پاتھوں اور کھلی جگہوں پر کام کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق سخت اقدامات کئے گئے ہیں جس پر عمل کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ جب گرم لہر’ہیٹ ویو ‘ جیسے حالات پیدا ہوں گے تو ریاست کے گرم ترین علاقوں کے ساتھ ممبئی جیسے شہروں میں ایس او پی کو نافذ کیا جائے گا۔
رہنما خطوط کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر گریش مہاجن نے کہا ہے کہ’’ ایس او پی کو تمام شہری انتظامیہ میں نافذ کیا جائے گاجس میں میونسپل کارپوریشن، میونسپل کونسل اور گرام پنچایت بھی شامل ہیں۔   انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ان دنوں مہاراشٹر میں شدید گرمی پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے کئی اضلاع ہیٹ ویوکی لپیٹ میں ہیں ۔گرمی کی شدت سے صحت کے متاثر ہونے کے ساتھ اموات بھی ہوسکتی ہیں ۔ اس لئے ایس او پی جاری کی گئی ہے۔رہنما خطوط میں کھلے علاقے میں کام کو  دن کے ٹھنڈے حصوں میں کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے ۔ ضروری کاموں کو عام طور پر صبح ۶؍بجے سے ۱۱؍ بجے اور شام ۴؍بجے سے رات ۸؍ بجے کے درمیان کرنے کو کہا گیا ہے جبکہ دوپہر میں ۱۲؍بجے سے شام ۴؍بجے کے درمیان کام نہ کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ان لو گوں کیلئے جو گرمی کے موسم کاسب سے زیادہ سامنا کرتے ہیں مثلا سڑک اور فٹ پاتھ پر سامان فروخت کرنے والے ، تعمیراتی مزدور، صفائی عملہ، ٹریفک پولیس اہلکار، ڈیلیوری کرنے والے ، رکشا چلانے والے، بوجھ اُٹھانے والے، آشا اور آنگن واڑی سیویکائوں اور دیگرافراد کیلئے سخت انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ دوپہر ۱۲؍بجے سے شام ۴؍بجے کے درمیان کام روک دیں۔
 
 
گرمی کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکان سے نمٹنے کیلئے حکام کو اہم عوامی مقامات جیسے بازاروں، ٹریفک جنکشن اورٹرانزٹ ہب پر واٹر بوتھ قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اورل ری ہائیڈریشن سلوشن (او آر ایس) اور الیکٹرولائٹ سپلیمنٹس کی تقسیم کو بھی پرائمری ہیلتھ سینٹروں، وارڈ دفاتر اور غیرسرکاری تنظیموں کے ذریعے یقینی بنانے کیلئے کہا گیا ہے۔
 
 
حکومت نے شہری انتظامیہ کو ان مقامات پر جہاں مزدور اکٹھا ہوتے ہیں یا جن علاقوں میں سڑک اور فٹ پاتھ پر تیز دھوپ میں لوگ کاروبار کرتے ہیں،  وہاں عارضی سایہ دار ڈھانچے نصب کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ عوامی پارکوں اور باغات دوپہر کے اوقات میں کھلے رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ گرمی سے نجات کے خواہاں شہری وہاں وقت گزار سکیں ۔واضح رہے کہ مہاراشٹر ہندوستان کے ۱۰؍ سب سے زیادہ گرمی سے متاثرہ ریاستوں میں شامل ہے جس کے ۱۵؍ اضلاع   جن میں ودربھ، مراٹھواڑہ اور خاندیش کے علاقے شا مل ہیں،  ہائی رسک زون  میں آتے ہیں ۔ 
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں گرم لہر (ہیٹ اسٹروک) سے متاثر ہونے والے  ۵؍مریض سامنے  آئے  تھے جن میں ممبئی کا کوئی مریض شامل نہیں تھا ۔  پال گھر میں ۲؍اور رائے گڑھ ، ناسک اور جلگائوںمیں ایک ایک مریض پایا گیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK