مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور اثاثوں کو ہدف بنایا۔ تازہ حملوں پر انتباہ دیا ہے کہ وقت آنے پرمزید سخت جواب دیا جائے گا، ٹرمپ نے پھرمعاہدہ کیلئے دھمکایا۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 11:55 AM IST | Washington/Tehran
مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور اثاثوں کو ہدف بنایا۔ تازہ حملوں پر انتباہ دیا ہے کہ وقت آنے پرمزید سخت جواب دیا جائے گا، ٹرمپ نے پھرمعاہدہ کیلئے دھمکایا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔امریکی حملوں اور ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی دندان شکن جواب دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے مسلسل بمباری کی جارہی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنوب مشرقی ایران میں ایک فوجی اڈے پر کیے گئے میزائل حملوں میں کم از کم ۷؍ایرانی فوجی شہید جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھر اور پل ہدف ہوں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو امریکہ آئندہ ہفتے ایران میں پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے ایران میں پلوں اور بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی دی ہو، وہ ماضی میں بھی مذاکراتی دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اور جارحانہ بیانات دیتے رہے ہیں، جن پر ہمیشہ عمل نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو وہاں کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔
یہ بھی پڑھئے: خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض
ایران پر مسلسل چوتھی رات۷؍ گھنٹے تک امریکی بمباری
امریکی فوج نے ایران پر مسلسل چوتھی رات فضائی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز سمیت ساحلی علاقوں میں درجنوں ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے۷؍ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظاموں پر انتہائی درست ہتھیاروں سے حملے کیے۔ یہ کارروائی امریکی وقت کے مطابق رات۱۰؍ بجے کی گئی۔امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور وہاں سے جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی بمباری سے عراق کی سرحد کے قریب ضلع دہلوران میں واقع معدنی پانی کی پیداوار کے مرکز پر تین میزائل آ کر گرے، جس پانی کی بوتلیں تیار کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا، بدھ کی علی الصبح ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فیکٹری کا ساز و سامان متاثر ہوا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حملہ سیستان اور بلوچستان صوبے کے علاقے ایرانی شہر کے قریب واقع بمپور گیریژن پر کیا گیا جہاں امریکی میزائلوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ۱۳؍امریکی میزائل فوجی بیرکوں پر داغے گئے جن کے نتیجے میں ۳۸۸؍ویں بریگیڈ کے ۷؍اہلکار شہید ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
ایران نے جوابی حملے کہاں کئے؟
آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ بحریہ اور ایرواسپیس یونٹوں نے یا زین العابدین کوڈ نام سے مربوط مہم چلائی۔ بیان کے مطابق بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کیلئے ہتھیار اور پرزے رکھنے والے کئی گودام تباہ کر دیے گئے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایم کیو-۹؍ ڈرون تعیناتی ریمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے کئی ڈرون تباہ یا ناکارہ ہوگئے۔ وہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت میں امریکی لاجسٹکس مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے بدھ کی علی الصباح دعویٰ کیا کہ انھوں نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں امریکی فوج کے ایک لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر کو نشانہ بنایا، آئی آر جی سی نے کہا کہ امریکی لاجسٹکس مرکز کو نصر ۲؍آپریشن کی چوتھی لہر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اردن میں واقع الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدھ کو بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ٹھکانے پر حملہ کر کے فوجی ساز و سامان کے بڑے ذخیرے اور ایندھن کے ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: گھڑیاں تبدیل کرنے کا نظام ختم؟سن شائن پروٹیکشن ایکٹ ایوان میں منظور
ایران کے ایک ایک انچ کا دفاع کرینگے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ظاہر کرتے کہا ہے کہ ایران کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔ ایرانی صدر نے ٹی وی پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کی بیان بازی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ٹرمپ بتائیں کہ کیا انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے ؟ ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے بتائیں کہ انہیں آخر حاصل کیا ہوا ہے؟ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اقدامات سے اپنے وطن کا بھرپور دفاع کریں گے۔