Updated: March 08, 2026, 9:09 AM IST
| Rome
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد یورپ میں عوامی مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی، اسپین اور اٹلی میں ہونے والے مختلف سرویز کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد ان حملوں کو غیر منصفانہ یا غیر ضروری سمجھتی ہے اور خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ جرمنی میں سروے کے نتائج نے امریکہ پر عوامی اعتماد میں نمایاں کمی کو بھی ظاہر کیا ہے۔
(۱) جرمنی میں سروے: اکثریت کے نزدیک ایران پر حملے غیر منصفانہ
جرمنی میں ہونے والے ایک نئے عوامی سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ شہریوں کی اکثریت ایران پر کئے گئے حملوں کو غیر منصفانہ سمجھتی ہے۔ سروے کے مطابق اس فوجی کارروائی کے بعد امریکہ پر عوامی اعتماد بھی تاریخی کم ترین سطح تک گر گیا ہے۔
نتائج کے مطابق بہت سے جرمن شہریوں کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے عالمی استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ جواب دہندگان نے یہ بھی کہا کہ مسلسل کشیدگی سفارتی کوششوں کو کمزور کر سکتی ہے جو امن برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عوامی رائے یورپی حکومتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں عوامی جذبات کو بھی مدنظر رکھیں۔ یہ سروے یورپ بھر میں جاری اس بحث کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائی ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ
(۲) اسپین میں عوام کی اکثریت امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے خلاف
اسپین میں ہونے والے ایک فوری سروے کے مطابق عوام کی بڑی تعداد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مخالف ہے۔ تحقیقی ادارے ۴۰؍ ڈی بی کی جانب سے اخبارات ایل پائس اور کادینا سیر کیلئے کئے گئے سروے میں تقریباً ۶۸؍ فیصد افراد نے ان حملوں کو مسترد کیا۔
سروے کے مطابق ۵۷؍ فیصد ہسپانوی شہری اپنی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ اس تنازع میں فوجی طور پر شریک نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ ۵۳؍ فیصد افراد نے اسپین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو اس جنگی کارروائی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی بھی تائید کی۔
تقریباً ۸۰؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تنازع کی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، اور زیادہ تر لوگوں نے تشویش کو اپنی بنیادی ردعمل کے طور پر بیان کیا۔ ماہرین کے مطابق اس قدر مضبوط عوامی مخالفت یورپی حکومتوں کے سیاسی مباحث پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
(۳) اٹلی میں بھی اکثریت ایران پر حملوں کے خلاف
اٹلی میں کئے گئے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ عوام کی اکثریت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے فوجی حملوں کی مخالف ہے۔ سروے کے شرکا نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے اور عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ بہت سے افراد نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا فوجی کارروائی واقعی دیرپا سلامتی کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔
اٹلی میں عوامی رائے یورپ کے دیگر ممالک میں نظر آنے والے رجحانات سے ملتی جلتی ہے، جہاں شہری پیچیدہ علاقائی تنازعات کے حل کے طور پر فوجی اقدامات کے بارے میں شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج اٹلی اور یورپی یونین میں سیاسی بحث پر اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ لیڈر اس بحران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں شدت: میزائل، ڈرون حملے اور اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات
(۴) امریکی میڈیا شخصیات نے ایران تنازع میں امریکہ کے کردار پر سوال اٹھایا
امریکہ کی بعض معروف میڈیا شخصیات نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں امریکہ کی شمولیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے کہا کہ یہ تنازع بنیادی طور پر اسرائیل سے متعلق ہے اور اسے لازمی طور پر امریکہ کی جنگ نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کارلسن کے مطابق امریکی پالیسی سازوں کو کسی بیرونی تنازع میں وسائل یا جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے پہلے قومی مفاد کا بغور جائزہ لینا چاہئے۔
فاکس نیوز میزبان میگن کیلی نے بھی اسی طرح کی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی کو بھی کسی دوسرے ملک کیلئے مرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ ان بیانات کے بعد سیاسی اور میڈیا حلقوں میں اس بحث نے شدت اختیار کر لی ہے کہ عالمی فوجی مداخلتوں میں امریکہ کا کردار کس حد تک ہونا چاہئے۔ یہ مباحث امریکہ کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تقسیم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔