Updated: September 03, 2026, 9:59 PM IST
| Washington/Tehran
بدھ کو شائع ہونے والے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنا موقف دہرایا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس کا سہرا جون ۲۰۲۵ء میں کئے گئے بی-۲ بمبار طیاروں کے حملوں کے سر باندھا جن سے، ان کے بقول، تہران کا جوہری پروگرام مکمل ہونے سے ’دو ہفتے‘ قبل روک دیا گیا۔
ایرانی فوج نے جمعرات کو بیان دیا کہ اس نے کویت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا ہے، یہ کارروائی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکیوں کے باوجود جنگ کے ۶ ماہ بعد کشیدگی میں ازسرِ نو اضافے کے دوران سامنے آئی۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق جاری کردہ بیان میں ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کویت میں احمد الجابر ایئر بیس پر ”سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، سازوسامان کے گودام اور لڑاکا طیاروں کے ہینگرز“ کو نشانہ بنایا، جبکہ یو اے ای میں الِمنہاد ایئر بیس پر ”افواج اور ریڈار کے نظام“ کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج نے تقریباً ایک کروڑ ۸۰ لاکھ بیرل تیل لے جانے والے ۴۰ تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان منگل کو حملوں کا ایک نیا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ایران کو پابندیوں سے بچانے والے ممالک کو کارروائی کا انتباہ
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام روکنے کا سہرا حملوں کے سر باندھا
بدھ کو شائع ہونے والے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس کا سہرا جون ۲۰۲۵ء میں کئے گئے امریکی بی-۲ بمبار طیاروں کے حملوں کے سر باندھا جن سے، ان کے بقول، تہران کا جوہری پروگرام مکمل ہونے سے ’دو ہفتے‘ قبل روک دیا گیا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ”اب ہمارا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے راتوں رات ۲۸ کشتیاں، ۲۸ جہاز تباہ کئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو اسرائیل ختم ہو جاتا، مشرقِ وسطیٰ ختم ہو جاتا اور ایران امریکی شہروں پر حملہ آور ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ٹرمپ اجازت دیں تو غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کو تیار: اسرائیلی وزیر دفاع
ٹرمپ کی آبنائے کا نام "ٹرمپ اسٹریٹ" رکھنے کی تجویز
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ تجویز بھی پیش کی کہ آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’آبنائے ٹرمپ‘ (ٹرمپ اسٹریٹ) رکھا جائے۔ انہوں نے پوچھا: ”اب جبکہ یہ ہمارے (امریکہ کے) کنٹرول میں ہے، کیا ہمیں ہرمز آبنائے کا نام بدل کرکے ٹرمپ اسٹریٹ رکھ دینا چاہئے؟؟؟“ یہ تجویز پچھلے ہفتے کنیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع کے دوران لیک اونٹاریو کا نام "لیک امریکہ" رکھنے کے حکم کے بعد سامنے آئی۔
ایک ماہ کے وقفے کے بعد لڑائی میں شدت
تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکہ نے ایران کے جزیرے لارک پر راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں ایران کا کہنا تھا کہ انہیں بارودی سرنگیں بچھانے کیلئے استعمال کیا جانا تھا۔ جوابی کارروائی میں تہران نے اردن اور یو اے ای پر میزائل داغے جنہیں روک دیا گیا۔ ایرانی حملوں نے کویت، بحرین اور عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے اپنے بیان کے مطابق، ایران بھر میں امریکی بمباری سے کم از کم ۱۹ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق منگل کی رات امریکی حملوں میں ایرانی فضائیہ کے تین پائلٹ ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے سے شادی کا گھر، ماتم کدہ میں تبدیل
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے توانائی اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ایران کے تمام قومی فوجی اور شہری ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے۔
اندرونی بات چیت سے واقف ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کے اعلیٰ معاونین نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مزید کشیدگی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انتخابات کے بعد فوجی کارروائی میں اضافے پر غور کیا جا سکتا ہے۔