Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا امریکہ کو الٹی میٹم، مغربی ایشیا میں امریکی یونیورسٹیز پرحملوں کی دھمکی

Updated: March 29, 2026, 7:04 PM IST | Tehran

ایران کے انقلاب گارڈز (IRGC) نے مغربی ایشیا میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، بعد ازاں کہ امریکی-اسرائیلی حملوں نے تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت ایرانی جامعات کو نقصان پہنچایا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اسلامی انقلاب گارڈ کور (IRGC) نے اتوار (۲۹؍ مارچ) کو مغربی ایشیا میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، بعد ازاں کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے دو ایرانی یونیورسٹیز کو تباہ کر دیا۔ خلیج کے مختلف ممالک میں کئی امریکی یونیورسٹیزکے کیمپس کام کر رہے ہیں، جن میں قطر میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور متحدہ عرب امارات میں نیو یارک یونیورسٹی شامل ہیں۔ اسلامی انقلاب گارڈ کورکی وارننگ اس حملے کے بعد سامنے آئی جو تہران کے شمال مشرق میں واقع یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر کیا گیا، جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹھن گئی ہے؟

آئی آر جی سی نے ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے بیان میں کہا:’’اگر امریکی حکومت چاہتی ہے کہ اس کے خطے میں موجود یونیورسٹیز ردعمل سے محفوظ رہیں تو اسے چاہئے کہ وہ۳۰؍ مارچ، دوپہر۱۲؍ بجے تک تہران کے وقت کے مطابق یونیورسٹیز پر حملے کی باضابطہ مذمت کرے۔ ‘‘بیان میں مزید کہا گیا: ’’ہم تمام امریکی یونیورسٹیز کے ملازمین، اساتذہ، طلبہ اور ان کے اردگرد کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کیمپس سے ایک کلومیٹر دور رہیں۔ ‘‘گذشتہ ہفتے ہفتہ کو تہران میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو امریکی-اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سی این این نے کئی ویڈیوز جیو لوکیٹ کیں جو تہران کی ایک انجینئرنگ یونیورسٹی کی تباہ شدہ عمارتیں دکھاتی ہیں اور حملوں کی تصدیق کی۔ مزید نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اسکول پر حملہ اس دوران کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۵۰۰؍ شہری ہلاک، امریکی سازوسامان تباہ، ایران جنگ کی اصل قیمت؟

یاد رہے کہ یہ تنازع۲۸؍ فروری سے شروع ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں پیشگی فضائی حملے کئے۔ اس کے بعد کی کشیدگی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ایران کی جانب سے نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیج کے ممالک میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کشیدگی کے دوران، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بات چیت کیلئے کھلے پن کا اشارہ دیا اور ایک۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ پیش کرنے کا امکان ظاہر کیا۔ ۲۵؍ مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان غیر رسمی تبادلے ’دوستانہ ممالک‘ کے ذریعے ہوئے، تاہم، انہوں نے زور دیا کہ انہیں رسمی مذاکرات نہ سمجھا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بوشہر کے قریب حملہ، صنعتی مراکز نشانے پر، جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

اس دوران سفارتی کوششیں بھی تیزی پکڑتی دکھائی دے رہی ہیں، اور پاکستان ممکنہ ثالث کے طور پر قدم بڑھا رہا ہے۔ اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات متوقع ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت ہو سکے۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکین نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ثالثی اقدامات کا شکریہ ادا کیا، جبکہ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈفول نے اشارہ دیا کہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست ملاقات جلد ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی اس بات کی تجویز دی کہ ایسے مذاکرات اس ہفتے کے اندر ہو سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK