امریکی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن سفارت کاری اور مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہے، ایران سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 1:29 PM IST | Washington
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن سفارت کاری اور مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہے، ایران سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
امریکہ اور ایران نے منگل سے بدھ تک ایک دوسرے کے خلاف حملوں کی گیارہویں رات بھی کارروائیاں جاری رکھیں، ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران مذاکرات کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی قانون سازوں کے سامنے گواہی کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے مزید دسیوں ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک۳۷ء۵؍ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں لیکن سی این این سے بات چیت کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جنگ کے لئے اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی غرض سے کانگریس کے سامنے گواہی دی۔
یہ بھی پڑھئے: اینڈی برنہم نے امریکہ کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی
اس کے چند گھنٹے بعدآسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی اجازت دینا ایک ’خطرناک مثال‘ قائم کرے گا۔ ان کے مطابق فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز آزاد اور محفوظ آمدورفت کے لئے مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی۔
روبیو نے کہا کہ امریکہ ایران کے معاملے پر سفارت کاری اور مذاکرات کے لئے اب بھی تیار ہے، ایران سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، اختلافات کے خاتمےکے لئے بات چیت ہی ہماری ترجیح ہے لیکن بدقسمتی سے ایران نے اب تک اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ وہ سنجیدگی کامظاہر ہ کرے تو امریکہ بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے، تہران سنجیدہ نہ ہوا تو امریکہ اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ داؤ پر صرف ہرمز نہیں، بین الاقوامی سمندری راستوں کا مستقبل بھی ہے، سمندری راستوں پر آزادیٔ نقل و حرکت ایک بنیادی اصول ہے، آزادیٔ نقل و حرکت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عالمی معیشت اور تجارتی نظام کے تحفظ کے لئے سمندری راستوں کی آزادی برقرار رکھنا ہوگی۔
سی این این کے مطابق ایک شپنگ تجزیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایک اور اہم آبی گزرگاہ میں خلل سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی توانائی سے متعلق دو اہم ترین گزرگاہیں بیک وقت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے۔ اس اعلان کے بعد اس کے اثرات پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں، کیونکہ سعودی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکرز نے بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان کی معیشت مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے ۱۰؍ارب ڈالر امداد کی اپیل: رپورٹ
غطریس کا سفارت کاری پر زور
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے تمام فریقین پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کا حل صرف بات چیت، سفارت کاری اور خطے بھر میں شہری تنصیبات پر حملے روکنے ہی سے ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ سیکریٹری جنرل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پر سخت تشویش ہے۔ وہ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فکرمند ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی نئی کشیدگی اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل کے نمائندے ژاں آرنو بھی فریقین سے رابطے میں ہیں۔