Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی تیل بردار جہاز کا رخ ہندوستان سے چین کی طرف مڑ گیا؛ ادائیگی کے خدشات کو وجہ قرار دیا گیا

Updated: April 03, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai

’پنگ شُن‘ ٹینکر، جس پر تقریباً ۶ لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے، نے پہلے گجرات کی وادینار بندرگاہ کو اپنی منزل ظاہر کیا تھا۔ تاہم، جیسے ہی ٹینکر ہندوستانی ساحل کے قریب پہنچا، اس نے اپنا راستہ تبدیل کرلیا اور اب چین کے شہر ’ڈونگ ینگ‘ کو اپنی نئی منزل قرار دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایرانی خام تیل لے جانے والا بحری ٹینکر، جو ہندوستان کی طرف آرہا تھا، نے اچانک اپنا رخ چین کی جانب موڑ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اچانک تبدیلی کی ممکنہ وجہ ادائیگی سے متعلق مسائل ہیں۔ افرامیکس (Aframax) کا ’پنگ شُن‘ (Ping Shun) نامی ٹینکر، جس پر تقریباً ۶ لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے، نے پہلے گجرات کی وادینار بندرگاہ کو اپنی منزل ظاہر کیا تھا۔ جہاز نے ایران کے جزیرے خرج سے کارگو لوڈ کیا تھا اور اپریل کے اوائل میں اس کی ہندوستان آمد متوقع تھی۔ تاہم، جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق، جیسے ہی ٹینکر ہندوستانی ساحل کے قریب پہنچا، اس نے اپنا راستہ تبدیل کرلیا اور اب چین کے شہر ڈونگ ینگ (Dongying) کو اپنی نئی منزل ظاہر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منزل کی یہ تبدیلی ادائیگی کی شرائط میں تبدیلی سے منسلک معلوم ہوتی ہے۔ شپنگ ڈیٹا فرم ’کیپلر‘ (Kpler) کے تجزیہ کار سمیت ریتولیا نے کہا کہ فروخت کنندگان اب سخت شرائط کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ”یہ تبدیلی ادائیگی سے متعلق معلوم ہوتی ہے، کیونکہ فروخت کنندگان اب ۳۰ سے ۶۰ دن کے کریڈٹ ونڈوز کے بجائے پیشگی یا فوری ادائیگیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔“ اس کھیپ میں شامل خریدار اور فروخت کنندہ کی شناخت ابھی واضح نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے ہرمز پر کنٹرول سخت کیا، عالمی تیل سپلائی اور معیشت متاثر

واضح رہے کہ بین الاقوامی بینکنگ چینلز پر پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کیلئے ادائیگی کرنا پیچیدہ عمل ہے۔ ایران عالمی مالیاتی نظام ’سوئفٹ‘ (SWIFT) سے منسلک نہیں ہے، جس کی وجہ سے اسلامی ملک کے تیل کیلئے لین دین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پہلے ادائیگیاں متبادل ذرائع سے کی جاتی تھیں، جن میں درمیانی بینکوں کے ذریعے یورپی کرنسیوں کا استعمال شامل تھا، لیکن اب ان میں سے بہت سے متبادلات دستیاب نہیں ہیں۔ اس وجہ سے حالیہ سودوں میں پیشگی ادائیگی کے مطالبات عام ہوگئے ہیں۔

ایران سے ہندوستان کیلئے روانہ ہونے والی یہ کھیپ توجہ کا مرکز بن گئی تھی کیونکہ یہ ۲۰۱۹ء کے بعد ہندوستان کو ایرانی خام تیل کی پہلی ترسیل بن سکتی تھی۔ ہندوستانی ریفائنرز نے حال ہی میں محدود شرائط کے تحت ایرانی تیل خریدنے کے مواقع تلاش کئے تھے، جو ۱۹ اپریل تک سمندر میں موجود کارگو کی فروخت کی اجازت دیتی ہیں۔ ہندوستان، جو دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے، ماضی میں مناسب قیمت اور ریفائنری کی مطابقت کی وجہ سے ایرانی تیل پر انحصار کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ

اگرچہ ٹینکر اس وقت چین کا رخ ظاہر کر رہا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی تجارت میں سفر کے دوران ایسی تبدیلیاں غیر معمولی نہیں ہیں۔ تجارتی مذاکرات کی بنیاد پر حتمی منزل اب بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK