اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں ۹۵۰۰۰؍ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اس کے علاوہ ۱۸۰۰۰؍ افراد، جن میں ۴۰۰۰؍ بچے شامل ہیں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ سخت سردی اور بارش نے خیموں میں مقیم فلسطینیوں کیلئے حالات کو بدترین بنا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 12:06 PM IST | New York
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں ۹۵۰۰۰؍ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اس کے علاوہ ۱۸۰۰۰؍ افراد، جن میں ۴۰۰۰؍ بچے شامل ہیں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ سخت سردی اور بارش نے خیموں میں مقیم فلسطینیوں کیلئے حالات کو بدترین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں ۹۵۰۰۰؍ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اس کے علاوہ ۱۸۰۰۰؍ افراد، جن میں ۴۰۰۰؍ بچے شامل ہیں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ سخت سردی اور بارش نے خیموں میں مقیم فلسطینیوں کیلئے حالات کو بدترین بنا دیا ہے۔انسانی امور کے دفتر (او سی ایچ اے) کے حوالے سے، اقوام متحدہ کے ترجمان ساٹیفن ڈوجارک نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’غزہ پٹی میں انسانی صورت حال اب بھی نازک ہے، کیونکہ سخت موسمی حالات اقوام متحدہ کی جانب کی گئی پیشرفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو کو تمام الزامات سے بری کرنے کیلئے اتحاد کی قانون سازی
ڈوجارک نے بتایا کہ’’ غذائی قلت سے نمٹنے کی قیادت کرنے والے کارکنوں کے مطابق بڑی تعداد میں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ گزشتہ مہینے انہوں نے۷۶۰۰۰؍ سے زیادہ بچوں کی اسکریننگ کی اور تقریباً۴۹۰۰؍ معاملات شدید غذائی قلت کے شناخت کیے، جن میں سے۸۲۰؍ سے زیادہ معاملات انتہائی شدید غذائی قلت کے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس سے۲۰۲۵ء میں شدید غذائی قلت کے کل معاملات کی تعداد تقریباً ۹۵۰۰۰؍ ہو گئی ہے۔‘‘بعد ازاں اقوام متحدہ کے اراکین کی جانب سے ۲۸۰۰۰؍ خاندانوں کو خیمے، تارپولین اور کمبل فراہم کی ہیں۔ ‘‘ تاہم ڈوجارک نے خبر دار کیا ہے کہ ۱۱؍ لاکھ افراد اب بھی فوری امداد کے محتاج ہیں۔جبکہ سردی اور بارش کے طوفان موجودہ پناہ گاہوں کو شدید نقصان پہنچارہے ہیں۔
ڈوجارک نے زور دیا کہ خیمے ایک عارضی حل ہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مزید سپلائی، جیسے ٹول کٹ، سیمنٹ اور ملبہ صاف کرنے والی بھاری مشینری، کے ساتھ ساتھ مسلسل فنڈنگ کی ضرورت ہے۔‘‘ بچوں پر سخت موسم کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈوجارک نے کہا کہ ’’جنگ بندی کے بعد اور سال کے آخر تک، ہمارےاراکین موسم سرما کی تیاریوں کے حصے کے طور پر۳؍ لاکھ ۱۰؍ ہزار سے زیادہ بچوں کے موسم سرما کے کپڑوں کے سیٹ اورایک لاکھ ۱۲؍ ہزار سے زیادہ جوتے کی جوڑیاں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ غزہ بھر میں۱۵۰؍ خصوصی خیمے بھی لگائے ہیں جو بچوں کے لیے دوستانہ اور محفوظ جگہوں کے طور پر استعمال ہوں گے۔‘‘اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ ۳۵۰۰۰؍ طلبہ کیلئے ۱۸؍ اضافی عارضی تعلیم گاہیں قائم کی گئی ہیں، جس کے بعد ان عارضی تعلیم گاہوں کی کل تعداد ۴۴۰؍ ہوگئی ہے، جو ۲؍لاکھ ۶۸؍ ہزار طلبہ کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بدترین انسانی بحران کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج، یو این سے مداخلت کا مطالبہ
بعد ازاں ڈوجارک نے مطالبہ کیا کہ فوری اور بلاروک ٹوک امداد کی ترسیل کی جازت دی جائے، تاکہ ادارے کے اراکین غزہ کےمصائب کو کم کرنے کیلئے امداد میں اضافہ کرسکیں۔ تاہم جب غزہ میں اسرائیل کی جاری تباہی کے بارے میں پوچھا گیا، تو ڈوجارک نے کہا، ہماری کوشش ہے کہ غزہ میں جو کچھ بچا ہے اس کی تباہی رک جائے۔اور فریق امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کریںتاکہ تعمیر نو کی کوشش کی جا سکے۔‘‘ یہ یاد رہے کہ گذشتہ سال۱۰؍ اکتوبر سے ایک جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہے، غزہ کی صحت وزارت کے مطابق اس کے باوجود اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھے ہیں، جس میں ۴۴۲؍ فلسطینی ہلاک اور۱۲۳۶؍ زخمی ہوئے ہیں۔