Updated: July 04, 2026, 8:04 PM IST
| Mumbai
تقریباً تین برس تک سینسر بورڈ کے ساتھ تنازع، متعدد کٹوتیوں، عدالتی کارروائی اور بار بار تاخیر کے بعد دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’’پنجاب ۹۵‘‘ آخرکار ’’ستلج‘‘ کے نام سے ZEE5 پر ریلیز کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی سے متاثر اس فلم ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی کے پنجاب میں مبینہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔
’’ستلج‘‘ کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این
کئی برسوں کی غیر یقینی صورتحال، سینسرشپ کے تنازع اور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) کے ساتھ طویل کشمکش کے بعد ہدایت کار ہنی ٹریہن کی متنازع فلم ’’پنجاب ۹۵‘‘ آخرکار ’’ستلج‘‘ کے نام سے ریلیز کر دی گئی ہے۔ جمعہ کی شام فلم خصوصی طور پر ZEE5 پر نشر ہونا شروع ہوئی، جبکہ اس کے ساتھ آفیشل ٹریلر بھی جاری کر دیا گیا۔ دلجیت دوسانجھ، کنول جیت سنگھ، ارجن رامپال، سویندر وکی اور گیتیکا ودیا اوہلیان کی اداکاری سے مزین یہ فلم معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی سے متاثر ہے۔ فلم میں ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوران پنجاب میں خالصتانی عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے پس منظر میں مبینہ جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراستوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں جیسے حساس موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ کا چرچا، ہما قریشی کی اداکاری سے ناظرین متاثر
دو منٹ سے زائد دورانیے کے ٹریلر میں ۱۹۹۵ء کے پنجاب کے سیاسی اور سماجی حالات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ارجن رامپال کے کردار کی آواز میں بتایا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے دوران بعض پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر حالات کا ذاتی مفاد کے لیے فائدہ اٹھایا۔ ٹریلر میں سویندر وکی ایک پولیس افسر کے کردار میں دلجیت دوسانجھ کے کردار جسونت سنگھ کو دار کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے پولیس کے خلاف آواز اٹھائی تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تاہم جسونت انصاف کی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہیں اور مبینہ پولیس زیادتیوں کے خلاف کھل کر سامنے آتے ہیں۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ جسونت سنگھ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے انصاف کی خاطر نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی فورمز تک آواز بلند کرتے ہیں۔ ٹریلر کے مطابق وہ مبینہ طور پر ۲۵؍ ہزار سے زائد لاپتہ افراد کے مقدمات کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ٹریلر کے ایک اہم منظر میں جسونت کہتے ہیں، ’’ہم پولیس یا حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ ان خود غرض لوگوں کے خلاف ہیں جنہوں نے اپنی ترقی کے لیے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘‘ ٹریلر کا اختتام جسونت سنگھ کے اغوا اور پراسرار گمشدگی پر ہوتا ہے، جو ان کی جدوجہد کے المناک انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فلم کی ریلیز کے بعد ہدایت کار ہنی ٹریہن نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل دور میں فلم کا ساتھ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ فلم کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، لیکن ناظرین کو مکمل فلم بغیر کسی کٹوتی یا سمجھوتے کے دیکھنے کو ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی رشتۂ ازدواج میں منسلک
انہوں نے لکھا کہ ’’ہمیں فلم کا پرانا نام رکھنے کی اجازت نہیں ملی، اس لیے اب اس کا عنوان ’’ستلج‘‘ ہے۔ لیکن یہ وہی مکمل فلم ہے، بغیر کسی کٹوتی اور سمجھوتے کے، جیسی ہم نے ابتدا سے بنائی تھی۔ یہ دلجیت پاجی، ہمارے پروڈیوسرز اور ان کی ثابت قدمی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔‘‘فلم کی ریلیز کا سفر ۲۰۲۲ء میں اس وقت پیچیدہ ہو گیا تھا جب اسے سرٹیفیکیشن کے لیے سی بی ایف سی کے پاس جمع کرایا گیا۔ فلم سازوں کے مطابق بورڈ نے متعدد ترامیم اور کٹوتیوں کا مطالبہ کیا، جس کے باعث فلم مسلسل التوا کا شکار رہی۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں فلم کا عالمی پریمیئر ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) میں ہونا تھا، تاہم فلم کو آخری لمحے میں نمائش سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: لکی علی نے فلموں سے قبل قالین صاف کیا اور ریفائنری میں بھی کام کیا تھا
گزشتہ برس ایک انٹرویو میں ہنی ٹریہن نے بتایا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں انہوں نے ۲۱؍ کٹوتیاں قبول کیں تاکہ فلم کی راہ ہموار ہو سکے، لیکن اس کے باوجود ہر نئی جمع کرائی گئی کاپی پر مزید تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق بورڈ نے فلم کا نام تبدیل کرنے، ’’حقیقی واقعات سے متاثر‘‘ کی عبارت ہٹانے، جسونت سنگھ کھالرا کا نام تبدیل کرنے، ہندوستانی پرچم کے مناظر حذف کرنے، گربانی کی آوازیں نکالنے، پنجاب پولیس کے براہِ راست حوالوں کو ختم کرنے اور متعدد مقامات کے نام حذف کرنے جیسے مطالبات بھی کیے۔ یہ معاملہ ۲۰۲۳ء میں بامبے ہائی کورٹ تک بھی پہنچا، تاہم بعد میں پروڈیوسرز نے قانونی کارروائی واپس لے لی۔ اس کے باوجود فلم کی ریلیز مزید کئی ماہ تک غیر یقینی کا شکار رہی۔
یہ بھی پڑھئے: گیلکسی سلمان خان کے مداحوں کے لیے ایک مقدس مقام بن چکا تھا
ہنی ٹریہن نے اس پورے عمل کو اپنی زندگی کا انتہائی مایوس کن تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اس شخص کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے جس نے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے لیے بے خوف آواز اٹھائی تھی۔ فلم اب بالآخر ’’ستلج‘‘ کے عنوان سے ناظرین کے سامنے آ چکی ہے، جبکہ اس کی ریلیز کے ساتھ ہی ایک طویل سینسر تنازع کا بھی اختتام ہو گیا ہے۔