Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا

Updated: March 30, 2026, 10:12 PM IST | Tehran

ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سطح پر ایسی بات چیت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے ممکنہ ثالثی کی پیشکش کے باوجود، ایران نے کہا کہ اس نے کسی فورم میں شرکت نہیں کی۔ ایران نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، جبکہ علاقائی سطح پر امن کی اپیلوں کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس سے حالیہ سفارتی قیاس آرائیوں پر بریک لگ گئی ہے۔ ممبئی میں ایرانی قونصل خانے نے پیر (۳۰؍ مارچ) کو ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔

’’غیر معقول مطالبات‘‘
ایرانی حکام کے مطابق، اگرچہ کچھ پیغامات ثالثوں کے ذریعے موصول ہوئے ہیں، لیکن وہ ’’ضرورت سے زیادہ اور غیر معقول مطالبات‘‘ پر مبنی تھے۔ قونصل خانے کے بیان میں کہا گیا کہ ’’امریکہ سے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں؛ صرف ثالثوں کے ذریعے غیر معقول مطالبات موصول ہوئے ہیں۔‘‘ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہیں، لیکن اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یروشلم چرچ رسائی تنازع: عالمی دباؤ پر اسرائیل کا یوٹرن

پاکستان کی پیشکش پر ایران کا ردعمل
پاکستان نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، جسے علاقائی سطح پر ایک مثبت سفارتی قدم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، ایران نے واضح کیا کہ اس نے کسی ایسے فورم میں شرکت نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’پاکستان کے زیر اہتمام کوئی بھی فورم ان کا اپنا ہے؛ ہم نے اس میں شرکت نہیں کی۔‘‘ یہ مؤقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران فی الحال کسی باضابطہ ثالثی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

کشیدگی کی اصل پر سوال
ایران نے اپنے بیان میں نہ صرف مذاکرات کی تردید کی بلکہ موجودہ تنازعے کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھایا۔ قونصل خانے نے کہا کہ ’’جنگ کے خاتمے کے لیے علاقائی اپیلیں خوش آئند ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب کس نے شروع کیا۔‘‘ یہ اشارہ واضح طور پر امریکہ کی پالیسیوں کی طرف تھا، جسے ایران طویل عرصے سے خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جوہری خطرہ بڑھ گیا، یو این میں ہلچل، ایران کا امریکہ پر زمینی حملے کا الزام

علاقائی سفارت کاری اور بڑھتی کشیدگی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی اور سیاسی تناؤ کے بعد۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔ تاہم، ایران کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بریک تھرو کی توقع کم ہے۔

سفارتی پیچیدگی: غیر یقینی مستقبل
ماہرین کے مطابق، ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مذاکرات میں داخل ہونے سے پہلے اپنی شرائط پر زور دینا چاہتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، اور حالیہ تنازعات نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی

دروازہ بند نہیں، مگر کھلا بھی نہیں
اگرچہ ایران نے براہ راست مذاکرات کی تردید کر دی ہے، لیکن بیچوانوں کے ذریعے رابطے کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سفارت کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK