Updated: January 17, 2026, 5:13 PM IST
| Damascus
شام نے کرد کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا، ساتھ ہی ایک حکم نامے کے ذریعے کردوں کو قومی حقوق کی منظوری دی، ساتھ ہی اس حکم نامے کے تحت نو روز کو سرکاری چھٹی منظور کی، جبکہ ان کردوں کی شہریت بھی بحال کردی جن سے ۱۹۶۲ءکے متنازع مردم شماری کے تحت شہریت چھین لی گئی تھی۔
شامی صدر احمد الشرع۔ تصویر: آئی این این
شام کے صدر احمد الشرع نے جمعے کے روز ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت کردی کو ’قومی زبان‘ قرار دیا گیا اور اس سماج کو قومی حقوق عطا کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے تحت نو روز کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا ہے اور ان کردوں کو شہریت بحال کر دی گئی ہے جن سے۱۹۶۲ء کے متنازع مردم شماری کے تحت شہریت چھین لی گئی تھی۔
شامی سرکاری خبررساں ایجنسی ’سنا‘ نے حکم نامے کا سرکاری متن اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ حکم نامہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ شامی کرد شہری ’شامی عوام کا اٹوٹ اور حقیقی حصہ‘ ہیں اور ان کی ثقافتی اور لسانی شناخت ’شام کی متحدہ اور متنوع قومی شناخت کا اٹوٹ جزو‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس: صدرپوتن نے طالبان کے سفیر کو تسلیم کر لیا
اس حکم نامے کےمشمولات درج ذیل ہیں۔
دفعہ نمبر ۱؍: شامی کرد شہریوں کو شامی عوام کا ایک اہم اور حقیقی حصہ سمجھا جائے گا، اور ان کی ثقافتی اور لسانی شناخت شام کی متحدہ اور متنوع قومی شناخت کا ایک لازمی حصہ ہے۔
دفعہ نمبر۲؍: ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کا پابند ہے اور کرد شہریوں کو ان کی ورثے، فنون کے تحفظ اور اپنی مادری زبان کو قومی خود مختاری کے دائرے میں ترقی دینے کا حق یقینی بناتی ہے۔
دفعہ نمبر۳؍: کرد زبان کو قومی زبان سمجھا جائے گا اور ان علاقوں میں سرکاری و نجی اسکولوں میں اس کی تعلیم کی اجازت ہوگی جہاں کرد آبادی کا ایک بڑا تناسب ہو، یہ تعلیم انتخابی نصاب کا حصہ ہوگی یا ایک ثقافتی و تعلیمی سرگرمی کے طور پر ہوگی۔
دفعہ نمبر۴؍: الحسکہ صوبے میںٍ۱۹۶۲ء کی مردم شماری سے پیدا ہونے والے تمام استثنائی قوانین اور اقدامات منسوخ کیے جاتے ہیں۔ شامی شہریت شام میں رہنے والے کرد نژاد تمام باشندوں کو دی جائے گی، بشمول ان کے جو پہلے غیر رجسٹرڈ تھے، حقوق اور فرائض میں مکمل مساوات کے ساتھ۔
یہ بھی پڑھئے: یو این کا انتباہ؛ ۲۰۲۶ء میں مغربی و وسطی افریقہ میں ساڑھے ۵ کروڑ افراد شدید بھوک کا سامنا کرسکتے ہیں
دفعہ نمبر۵؍: ’نوروز‘ کی تعطیل ۲۱؍ مارچ کو پورے شام میں بطور قومی تہوار جو بھائی چارے کی علامت ہے، ایک سرکاری تنخواہ یافتہ تعطیل قرار دیا جاتا ہے۔
دفعہ نمبر۶؍: ریاستی میڈیا اور تعلیمی اداروں کو یکجہتی پر مبنی قومی بیانیہ اپنانا ہوگا۔ نسلی یا لسانی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز یا اخراج کو قانوناً ممنوع قرار دیا جاتا ہے، اور نسلی فساد کی تحریک موجودہ قوانین کے تحت سزا کے قابل ہوگی۔
دفعہ نمبر۷؍: متعلقہ وزارتیں اور حکام اس حکم نامے کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے ضروری تعمیری ہدایات جاری کریں گے۔