• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں امن، پروازیں جاری، انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال،شرپسندوں کی پھانسی موقوف

Updated: January 17, 2026, 6:06 PM IST | Tehran

ایران کے پولیس سربراہ کا کہنا ہےکہ ملک میں امن بحال ہوگیا ہے، اس کے علاوہ پروازیں جاری ہیں، جبکہ انٹرنیٹ بھی جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے،اسی دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ایران نے مسلح مظاہرین کی پھانسی ٹال دی ہے، جو ایران پر امریکی حملے کو ٹالنے کا سبب بنا۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی۔

 ایران کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کی بدامنی کے بعد امن بحال ہو گیا ہے، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اطلاع دی کہ منگل کو پابندیاں نرم کر دی گئیں۔ تاہم، ٹیکسٹ میسجنگ سروسز اب بھی بند تھیں اور انٹرنیٹ صارفین صرف مقامی طور پر سرکاری طور پر منظور شدہ ویب سائٹس سے ہی رابطہ قائم کر پا رہے تھے۔جمعے کو امریکہ میں مقیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد۳۰۹۰؍ ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ مظاہرے ایران میں کئی دہائیوں کے تمام ہنگاموں میں مہلک ترین تھے۔ 
دریں اثناء ہندوستان نے ایک ہدایت جاری کرتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کو ایران نہ جانے، وہاں موجود ہندوستانی شہریوں سے واپس آنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے زور دیا کہ ایران سے تجارتی پروازیں اب بھی جاری ہیں اور ملک چھوڑنے والے ہندوستانیوں کو ان کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ فی الحال ایران میں ۹۰۰۰؍ ہندستانی موجود ہیں، جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان زیادہ تر طلباء، کاروبار سے وابستہ افراد، کچھ پیشہ ور افراد، زائرین اور بحری کارکنان ہیں۔

یہ بھی پڑھئےـ: غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے

دوسری جانب  مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بارے میں پوچھے جانے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’’لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘بعد ازاں بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور پھانسی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ٹرمپ نے جمعے کو اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر لکھا، ’’میں اس حقیقت کی بہت عزت کرتا ہوں کہ تمام مقررہ پھانسی ، جو کل ہونی تھیں، ایران کی قیادت نے منسوخ کر دی ہیں، شکریہ‘‘ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ روکنے کیلئے مجھے کسی نے قائل نہیں کیا، بلکہ میں نے خود کو قائل کیا، انہوں نے کسی کو پھانسی نہیں دی، اس کا بڑا اثر ہوا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شام نے کرد کو سرکاری زبان کا درجہ دیا، کردوں کو قومی حقوق کی منظوری

مزید برآں ایران میں جاری مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران کے آخری بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایران کی اسلامی جمہوریہ کے زوال  کی پیشن گوئی کی ہے،ساتھ ہی خود کو ایران کے اگلے جانشین کے طور پر پیش کیا۔ ایک بیان میں رضا نے کہا کہ ان کے پاس منظم منتقلی کے لیے ایک جامع منصوبہ ہے، جو فوری طور پر نافذ کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں ایران کے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرنڈم بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی چیز سے انکار نہیں کیا۔ساتھ ہی انہوںنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ’’ ایرانی سیکورٹی عملے کے بڑے حصے نےحکومت کے احکامات ماننے سے انکار کردیا، اور میرے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان کے ساتھ مکمل طور پر شامل ہو جائے۔اگر ایسا ہوجائے تو مزید جانیں بچ جائیں گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: روس: صدرپوتن نے طالبان کے سفیر کو تسلیم کر لیا

واضح رہے کہ ایران میں اقتصادی بحران کے خلاف تاجروں نے مظاہرہ کیا تھا، بعد ازاں ان  مظاہروں نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا، اور پورے ملک میں پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس کے خلاف کارروائی میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ اسرائیل اور امریکہ نے ان مظاہرین کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں مدد کا بھروسہ دلایا تھا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK