Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: امریکی اسرائیلی حملوں سے۲۷۰؍ بلین ڈالر کا نقصان، ہرجانے کا مطالبہ

Updated: April 15, 2026, 2:00 PM IST | Tehran

ایران نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ و اسرائیل کے حملوںسے تقریباً ۲۷۰؍ بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، ساتھ ہی ان حملوں کیلئے سہولت فراہم کرنے والے عرب ممالک سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔

A building destroyed in the US-Israeli attack. Photo: PTI
امریکہ و اسرائیل کے حملے میں تباہ شدہ ایک عمارت۔ تصویر: پی ٹی آئی

ایرانی حکومتی ترجمان نے منگل کو ابتدائی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران کو تقریباً۲۷۰؍ بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، فاطمہ مہاجرانی نے روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے نووستی کو بتایاکہ ان مسائل میں سے ایک جس پر ہماری مذاکراتی ٹیم کام کر رہی ہے، اور جس پر اسلام آباد مذاکرات میں بھی بات ہوئی، وہ جنگی معاوضے کا مسئلہ ہے۔‘‘مہاجرانی نے زور دے کر کہا کہ۲۷۰؍ بلین ڈالر کا تخمینہ حتمی نہیں ہے، انہوں نے مزید کہاکہ ’’نقصانات کا عموماً کئی مراحل میں جائزہ لینا پڑتا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کو بھاری نقصان، معاہدہ صرف جوہری شرط پر ہوگا

دریں اثناء اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نےدعویٰ کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں میں مبینہ سہولت فراہم کر کے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران نے پانچ عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن) سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے، ان پر ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں میں شرکت کا الزام عائد کیا ہے۔پیر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس اور سلامتی کونسل کے صدر جمال فارس الرویعی کے نام خط میں، ایران کے اقوام متحدہ کے سفیرامیر سعید ایروانی نےکہا کہ ’’ چونکہ ان عرب ممالک نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں کیلئے سہولت فراہم کی ہےلہٰذا، انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا دعویٰ: ایران جنگ بندی کی کوششیں جلد ناکام ہوجائیں گی

واضح رہے کہ خطے میں اس وقت جنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر مشترکہ حملے کیے، جس سے ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل، عراق، اردن اور خلیجی ممالک (جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں) پر میزائل اور ڈرون سے جوابی حملے کیے۔بعد ازاں گزشتہ ہفتے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ایرانی اور امریکی وفود نے اتوار کے اوائل میں پاکستان کے شہر اسلام آباد میں۲۱؍ گھنٹے کے مذاکرات کیے۔ تاہم یہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے اختتام پذیر ہوئے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK