ہندوستانی شیئر بازار کے لیے آنے والا ہفتہ کافی اہم رہنے والا ہے۔ ایران-امریکہ کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں، ایف آئی آئی کی سرگرمیاں اور گھریلو معاشی اعداد و شمار بازار کی سمت طے کریں گے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 6:08 PM IST | Mumbai
ہندوستانی شیئر بازار کے لیے آنے والا ہفتہ کافی اہم رہنے والا ہے۔ ایران-امریکہ کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں، ایف آئی آئی کی سرگرمیاں اور گھریلو معاشی اعداد و شمار بازار کی سمت طے کریں گے۔
ہندوستانی شیئر بازار کے لیے آنے والا ہفتہ کافی اہم رہنے والا ہے۔ ایران-امریکہ کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں، ایف آئی آئی کی سرگرمیاں اور گھریلو معاشی اعداد و شمار بازار کی سمت طے کریں گے۔ آنے والے سیشنز میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر ہوں گی۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تناؤ برقرار ہے۔ اسی دوران ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کرنے والا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بھی ایران کے معاملے میں جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
خام تیل کی قیمتوں پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کے وزیر خارجہ کے بیانات کے بعد جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں ۳؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس سے آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں اور قبضے کو روکنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں۔ اس ہفتے کے دوران ایران-امریکہ تنازع سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ میں۸۴ء۷؍فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں ۴۸ء۱۰؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:’کمال مولیٰ مسجد پر ہائی کورٹ کا فیصلہ تاریخی حقائق کے خلاف‘
غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئی) بھی ہندوستانی شیئر بازار کے لیے کافی اہم ثابت ہوں گے۔ ایف آئی آئی نے اس مہینے میں اب تک (۱۶؍ مئی تک) ۲۷۱۷۷؍کروڑ روپے کی فروخت کی ہے جبکہ سال۲۰۲۶ ؍ میں اب تک وہ سیکنڈری ایکویٹی مارکیٹ سے۲۳۱۴۸۶؍ کروڑ روپے نکال چکے ہیں۔
دوسری جانب پرائمری مارکیٹ کے ذریعے سال کے دوران مجموعی سرمایہ کاری۱۲۴۸۶؍ کروڑ روپے رہی ہے۔ اس سال ایف پی آئی کی جانب سے کی گئی کل فروخت گزشتہ سال کی مجموعی نکاسی سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ادھر گھریلو معاشی اعداد و شمار بھی بازار کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ۲۱؍ مئی کو ایچ ایس بی سی پی ایم آئی کا ڈیٹا جاری ہوگا جبکہ ۲۲؍ مئی کو بینک قرض، بینک ڈپازٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر جیسے اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایسا ہے تو میں استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہوں‘‘
ہندوستانی شیئر بازار کے لیے گزشتہ ہفتہ نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس دوران سینسیکس۲۰۹۰؍ پوائنٹس یا ۷۰ء۲؍ فیصد کی گراوٹ کے ساتھ۷۵۲۳۷؍ پر اور نفٹی ۵۳۲؍ پوائنٹس یا ۲۰ء۲؍ فیصد کی کمی کے ساتھ ۲۳۶۴۳؍ پر بند ہوا۔ اس دوران مختلف اشاریوں میں نفٹی ریئلٹی ۱۷ء۸؍ فیصد کی گراوٹ کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان میں رہا۔