Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: ۹؍ کروڑ سے زائد مسافر پروازوں کی منسوخی سے متاثر، خلیج میں ہوا بازی کا شعبہ درہم برہم

Updated: March 10, 2026, 3:07 PM IST | Dubai

۲۸ فروری کو شروع ہوئی جنگ کے ابتدائی تین دنوں کے دوران، پورے خطے میں ۱۲ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اس تعطل کے باعث ۱۰ لاکھ سے زائد مسافر خلیجی ممالک میں ہی پھنس کر رہ گئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

خلیجی ممالک پر ایران کے میزائل حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہزاروں پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے ہیں اور خطے کے ٹرانسپورٹ ہب سے وابستہ معاشی بہاؤ کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ 

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی ہوائی اڈے ایرانی حملوں کے بعد فضائی حدود کی بندش اور سیکوریٹی خدشات کے باعث اپنی خدمات معطل کرنے یا ان میں نمایاں کمی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ صرف دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ عام طور پر سالانہ تقریباً ۹۲ ملین مسافروں کو ہینڈل کرتا ہے اور یہاں سے ہر ۷۲ سیکنڈ میں ایک طیارہ اڑان بھرتا یا لینڈ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایئر اسپیس پابندیوں کی وجہ سے دہلی سے مانچسٹر جانے والی فلائٹ واپس ہوئی : انڈیگو

۲۸ فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ابتدائی تین دنوں کے دوران، پورے خطے میں ۱۲ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں، جو شیڈول شدہ روانگیوں کا تقریباً ۴۰ فیصد ہیں۔ ہوا بازی کے اس تعطل کے باعث ۱۰ لاکھ سے زائد مسافر خلیجی ممالک میں ہی پھنس کر رہ گئے کیونکہ ایئر لائنز نے پروازوں کے راستے تبدیل کرنے اور شیڈول کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش شروع کر دی تھی۔

فضائی حدود کی بندش سے عالمی سفر متاثر

ایران اور عراق کے اوپر کی فضائی حدود یورپ کو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء سے جوڑنے والی اہم راہداری ہے۔ ان راستوں کے مرکز میں واقع خلیجی ہب روزانہ تقریباً ۹۰ ہزار ٹرانزٹ مسافروں کو سنبھالتے ہیں۔ ایمریٹس، قطر ایئر ویز اور اتحاد ایئر ویز جیسی بڑے فضائی کمپنیوں کی مجموعی سالانہ آمدنی ۶۸ ارب ڈالر سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فضائی حدود کی بندش کے باعث عمان ایئر کا متعدد پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان

رپورٹس کے مطابق، جیسے ہی تنازع میں شدت آئی، درجنوں ایئرلائنز نے نے فوری طور پر متاثرہ فضائی حدود سے اپنے جہازوں کو نکالنا شروع کردیا تھا۔ کم از کم ۱۴۵ طیارے جو پہلے سے فضا میں تھے، واپس مڑنے یا متبادل راستوں پر جانے پر مجبور ہوئے۔ ایرانی فضائی حدود سے بچ کر نکلنے سے پرواز کے وقت میں ۹۰ منٹ تک کا اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کی لاگت میں تقریباً ۶ ہزار ڈالر فی گھنٹہ کا اضافہ ہوتا ہے۔

اس تعطل کی وجہ سے فضائی راستے کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہیں۔ فضائی کارگو وزن کے لحاظ سے تجارت کا ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن قدر کے لحاظ سے یہ عالمی تجارت کے تقریباً ۳۵ فیصد کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں ویکسین، سیمی کنڈکٹرز اور غذائی اشیاء وغیرہ سامان منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کشیدگی: ایئر انڈیا کا ۹؍ راستوں پر۷۸؍ اضافی پروازوں کا اعلان

ترسیلاتِ زر پر اثرات

اس بحران کی وجہ سے خلیج سے ترسیلاتِ زر کا بہاؤ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ لاکھوں تارکینِ وطن کارکن روزگار کے لئے سفر کرنے اور بیرونِ ملک اپنے خاندانوں کے ساتھ مالی روابط برقرار رکھنے کے لئے خطے کے ہوا بازی کے نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔ واضح رہے کہ خلیج میں مقیم ہندوستانی افراد وہاں سے سالانہ تقریباً ۴۹ ارب ڈالر گھر بھیجتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن ۱۷ ارب ڈالر سے زائد اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن ہر سال تقریباً ۱۱ ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔ اگر ترسیلات زر کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے تو بیرونِ ملک آمدنی پر منحصر خاندانوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK