Updated: March 19, 2026, 10:34 PM IST
| Washington
ایران جنگ کے دوران امریکہ کے اندر سیاسی اور سیکوریٹی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کیلئے۲۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ہنگامی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایک امریکی اہلکار نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی تشویش ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی دوران ایف بی آئی نے مبینہ لیکس کے معاملے میں سابق انسداد دہشت گردی سربراہ کینٹ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’خون کے ہر قطرے کی قیمت ہوتی ہے۔‘‘
(۱) مستعفی امریکی اہلکار، ہمیں ٹرمپ سے خدشات بیان کرنے کی اجازت نہیں تھی
ایران جنگ کے حوالے سے ایک امریکی اہلکار نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے اپنی تشویش ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اپنے خدشات براہ راست پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے پالیسی سازی میں مسائل پیدا ہوئے۔‘‘ اہلکار نے مزید کہا کہ ’’اہم فیصلے محدود معلومات کی بنیاد پر کئے جا رہے تھے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت اور کھلے مکالمے کے بغیر جنگی حکمت عملی مؤثر نہیں ہو سکتی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے اندر جنگی پالیسی پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں ماہرین کی تعیناتی، سینڈرز کی جنگی اخراجات پر سخت تنقید
(۲) پینٹاگون نے ایران جنگ کیلئے ۲۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد فنڈنگ مانگی
پینٹاگون نے ایران کے خلاف جاری جنگ کیلئے ۲۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی ہنگامی فنڈنگ کی درخواست کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فنڈز فوجی آپریشنز، دفاعی نظام اور خطے میں تعینات اہلکاروں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے درکار ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’یہ وسائل ہماری فوجی تیاری اور آپریشنز کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگی اخراجات پر سیاسی سطح پر بھی بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا اسرائیل پر سخت حملہ، مغرب پر تنقید، ٹرمپ نے میکرون کو نشانہ بنایا
(۳) سابق انسداد دہشت گردی سربراہ کینٹ ایف بی آئی تحقیقات کے تحت
رپورٹس کے مطابق امریکہ کے سابق انسداد دہشت گردی سربراہ کینٹ کو مبینہ لیکس کے معاملے میں ایف بی آئی کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ ایف بی آئی حکام نے کہا کہ ’’ہم مبینہ معلومات کے افشاء ہونے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔‘‘ ذرائع کے مطابق تحقیقات اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا حساس معلومات غیر مجاز طریقے سے لیک کی گئیں۔ حکام نے کہا کہ ’’قومی سلامتی سے متعلق کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘‘ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگی صورتحال کے باعث حساس معلومات کی حفاظت انتہائی اہم ہو گئی ہے۔
(۴) مجتبیٰ خامنہ ای کا انتباہ، خون کے ہر قطرے کی قیمت ہوتی ہے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’خون کے ہر قطرے کی قیمت ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ایران اپنے شہریوں اور قیادت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب ضرور دے گا۔‘‘ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’’ہم اپنے دشمنوں کو ان کے اقدامات کا حساب دینے پر مجبور کریں گے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔