Updated: March 10, 2026, 10:02 PM IST
| Biejing
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے عالمی سیاست میں نئی صف بندی پیدا کر دی ہے۔ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد چین، روس، آذربائیجان، عراق اور عمان نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ یورپی یونین کمیشن کی صدر کے ایران مخالف بیان نے سفارتی تنازع کو مزید بڑھا دیا۔ امریکہ میں بھی ایران جنگ داخلی سیاست کا اہم موضوع بن گئی ہے اور ریپبلکن قیادت کو خدشہ ہے کہ اس کے اثرات وسط مدتی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این
(۱) چین، روس، آذربائیجان، عراق اور عمان کی مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت
ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد کئی ممالک نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین، روس، آذربائیجان، عراق اور عمان نے نئی ایرانی قیادت کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حمایت ایران کے لیے سفارتی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران عالمی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار نہیں۔ روس اور چین جیسے بڑے ممالک کی حمایت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ اور عالمی سفارتی فورمز پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں جغرافیائی و سیاسی صف بندی مزید واضح ہو گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ جنگی صورتحال میں داخلی استحکام برقرار رکھے اور عالمی دباؤ کا سامنا کرے۔
یہ بھی پڑھئے: عراق میں امریکی اڈوں پر مسلح تنظیموں کے حملے
(۲) ایران پر حملوں کا کوئی غم نہیں: یورپی یونین کمیشن کی صدر
یورپی یونین کمیشن کی صدر نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے حوالے سے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایرانی حکومت کے لیے کوئی افسوس نہیں۔‘‘ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ ناقدین نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بعض یورپی سیاستدانوں نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو جنگ کے بجائے سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ ایران کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یورپی سیاست میں ایران کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔
(۳) ایران جنگ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پر بھاری نہ پڑ جائے
امریکہ میں ایران جنگ داخلی سیاست کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے کئی اراکین نے ایک اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ جنگ کے اثرات آنے والے وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بعض قانون سازوں نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو اس کے معاشی اور سیاسی نتائج امریکی عوام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب پارٹی کے کچھ لیڈر جنگی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں اور اسے قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی اکثر داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، خاص طور پر جب جنگی اخراجات اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔
(۴) ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا دفاع کیا، کہا وہ مشرق وسطیٰ پر قابض ہونا چاہتا تھا
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران خطے کے کئی ممالک پر اثر و رسوخ بڑھا کر بالآخر پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو ایران کا میزائل اور جوہری پروگرام خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات جنگی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
(۵) ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ہم نے ایران کی ہر ایک طاقت کا مکمل صفایا کر دیا
ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں نے ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ فضائی حملوں اور میزائل کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے کئی فوجی اڈے، میزائل لانچنگ پلیٹ فارم اور دفاعی تنصیبات تباہ کر دی گئیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم نے ایران کی ہر ایک طاقت کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔‘‘ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس اب بھی قابل ذکر فوجی صلاحیت موجود ہے جس میں میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادی شامل ہیں۔ اس بیان نے جنگ کے بیانیے کو مزید سیاسی رنگ دے دیا کیونکہ امریکی داخلی سیاست میں بھی اس تنازع پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
(۶) امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو بے دخل کریں تو آبنائے ہرمز میں ’’مکمل آزادی‘‘ مل سکتی ہے: پاسداران انقلاب
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک غیر معمولی سفارتی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر عرب اور یورپی ممالک اپنے ملکوں سے امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو بے دخل کر دیں تو انہیں آبنائے ہرمز میں مکمل آزادی دی جا سکتی ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق تہران ان ممالک کے تجارتی جہازوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے پر غور کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اس بیان کو بعض ماہرین نے سفارتی دباؤ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس طرح عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو ایک اہم تزویراتی کارڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تل ابیب سے حیفا اور دیمونا تک اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں کا قہر
(۷) اسرائیلی عوام کی اکثریت ایران پر حملوں کی حامی: رپورٹ
ایک حالیہ سروے کے مطابق اسرائیل میں عوام کی بڑی اکثریت ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام اسرائیل کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے حکومت کی سخت پالیسیوں کی حمایت کی۔ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر جنگ کے حوالے سے عوامی حمایت مضبوط ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت کسی بھی حکومت کے لیے جنگی پالیسیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ معاشی اور انسانی نقصانات کو بڑھا سکتی ہے جس کے اثرات بعد میں عوامی رائے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
(۸) میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے ’’خالصتاً دفاعی‘‘ مشن کا منصوبہ بنا رہا ہے
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا کہ فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں ایک ’’خالصتاً دفاعی مشن‘‘ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی سپلائی کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ میکرون نے کہا کہ اگر اس راستے میں خلل پڑا تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے یورپی ممالک ایک مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک پر غور کر رہے ہیں تاکہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ یورپ کو جنگ کے عالمی معاشی اثرات پر شدید تشویش ہے۔
(۹) اسرائیلی لیڈر اوبامہ کو بھی ایران پر حملوں کیلئے اکسا رہے تھے: انٹونی بلنکن
امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی لیڈر ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ بلنکن کے مطابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں اسرائیلی قیادت نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے اس بات کا بھی اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکہ کارروائی نہیں کرتا تو اسرائیل خود حملہ کر سکتا ہے۔ بلنکن کے اس انکشاف نے اس طویل تنازع کی تاریخی جڑوں کو اجاگر کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کئی برسوں سے قریبی تعاون اور مشاورت جاری رہی ہے۔