Updated: May 09, 2026, 10:11 PM IST
| Washington
کینٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ۲۸ فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج کے حملوں کے بعد یہ دونوں منظرنامے حقیقت بن کر سامنے آئے۔
امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے قبل امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا تھا۔ جمعرات کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کینٹ نے لکھا کہ ”اس جنگ کے بہت سے المیوں میں سے ایک یہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے سی آئی اے سمیت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات پر متفق تھی کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا تھا۔“
کینٹ نے مزید لکھا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے یہ اندازہ بھی لگایا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ۲۸ فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج کے حملوں کے بعد یہ دونوں منظرنامے حقیقت بن کر سامنے آئے۔ کینٹ نے کہا کہ ”انٹیلی جنس کمیونٹی (آئی سی) نے یہ درست اندازہ بھی لگایا تھا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے حکومت مضبوط ہوگی اور سخت گیر عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا طریقہ کار کیوبا میں خون خرابے کا سبب ہوسکتا ہے: کیوبا کے وزیر خارجہ
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ”ایک غیر ملکی حکومت - اسرائیل - کے تیار کردہ بیانیے اور ایجنڈے نے بحث جیت لی اور ہمیں اس جنگ میں دھکیل دیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب کیسے ہوا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم دوبارہ کبھی اس پوزیشن میں نہ آئیں۔“
واضح رہے کہ کینٹ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر اختلافات کی بنا پر ۱۷ مارچ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ ایکس پر شیئر کئے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے سینیئر اسرائیلی حکام اور کچھ امریکی میڈیا اداروں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو جنگ کی طرف دھکیلنے کیلئے غلط معلومات پھیلائیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام لکھے گئے خط میں کینٹ نے لکھا تھا کہ ”ٹرمپ انتظامیہ کے اوائل میں ہی اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام اور امریکی میڈیا کے بااثر ارکان نے غلط معلومات کی مہم چلائی جس نے آپ کے ’امریکہ فرسٹ‘ پلیٹ فارم کو مکمل طور پر کمزور کردیا اور ایران کے ساتھ جنگ کی حوصلہ افزائی کیلئے جنگ نواز جذبات پیدا کئے۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ کو یہ یقین دلانے کیلئے ”دھوکہ“ دیا گیا کہ ایران امریکہ کیلئے ایک فوری خطرہ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ ۱۱ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق جنگ سے پہلے پیدا کئے گئے حالات سے کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندی کے سبب مقبوضہ مغربی کنارے میں جلدی بیماری میں اضافہ:اقوام متحدہ
وہائٹ ہاؤس نے کینٹ کے دعوؤں کو مسترد کردیا
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے `انادولو` کو بتایا کہ کینٹ کا استعفیٰ نامہ اور عوامی بیانات ”جھوٹ سے بھرے ہوئے“ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”کینٹ کے سب سے زیادہ گھناؤنے دعوے یہ ہیں کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی سرپرست (ایران) کسی طرح امریکہ کیلئے خطرہ نہیں تھا اور اسرائیل نے صدر کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ شروع کرنے پر مجبور کیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے ”ٹھوس شواہد“ کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگی کارروائی کی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایران ایک فوری خطرہ ہے اور امریکیوں کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔