Updated: March 09, 2026, 9:04 PM IST
| Baghdad
عراق کے شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے اپنی سیاسی تحریک کے مسلح ونگ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف انسانی ہمدردی کے کاموں تک محدود رکھیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران کے خلاف جاری حملوں کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
مقتدیٰ الصدر۔ تصویر: ایکس
عراق کے بااثر شیعہ مذہبی لیڈر مقتدیٰ الصدر نے اپنی تحریک کے مسلح ونگ سرایا السلام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھتے ہوئے صرف انسانی ہمدردی کے کام انجام دیں۔ یہ ہدایت اتوار کوجاری کی گئی جس میں الصدر نے اپنے حامیوں کو موجودہ حالات میں احتیاط برتنے کی تلقین کی۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہدایت
الصدر نے اپنے بیان میں موجودہ حالات کو مشکل قرار دیا اور کہا کہ عراق کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے قریبی ساتھی صالح محمد العراقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ الصدر نے عراق، اس کے مقدس مقامات اور عوام کے تحفظ کے لیے دعا کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں جو عراق کو ’’اندر اور باہر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ۱۵؍ اہم واقعات، عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی پر اثرات
مسلح ونگ کے لیے واضح ہدایات
الصدر نے سرایا السلام کے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو انسانی امداد اور عوامی خدمت کے کاموں تک محدود رکھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ الصدر موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران عراق کو کسی ممکنہ تصادم میں گھسیٹے جانے سے بچانا چاہتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کے خلاف جاری حملوں کے نتیجے میں ایرانی حکام کے مطابق ۱۲۰۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی حکام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تہران میں تیل کے ذخائر پرحملے، آسمان میں سیاہ بادل، سڑکیں آگ کا دریا بن گئیں
ایران کا ردعمل
ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے کے بعض ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے ان مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
عراق کے لیے ممکنہ خطرات
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے باعث وہ اس تنازع کے اثرات سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اسی وجہ سے مقتدیٰ الصدر کی جانب سے اپنے حامیوں کو محتاط رہنے اور مسلح سرگرمیوں سے گریز کی ہدایت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔