وزیر اعلیٰ نے تحقیقات کی اور سونیتراپوار کو سیکوریٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی،انجلی دمانیا کی حکومت پر تنقید۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 10:13 AM IST | Mumbai
وزیر اعلیٰ نے تحقیقات کی اور سونیتراپوار کو سیکوریٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی،انجلی دمانیا کی حکومت پر تنقید۔
اشوک کھرات کے معاملے میں ایک سنسنی خیز موڑ آیا ہے۔ بیڑ سے کسی شخص نے اس معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کے نام ایک خط بھیجا ہےجس میں کہا گیا ہے کہ سونیترا پوار کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور جن لوگوں سے انہیں خطرہ ہو سکتا ہے ان میں اشوک کھرات کی قریبی ہونے کی بنا پر خواتین کمیشن کی چیئر پرسن کے عہدے سے ہٹائی گئی روپالی چاکن کر بھی شامل ہیں۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال میں مودی اور ممتا کی ریلیاں، ایک دوسرے پر نشانہ
بیڑ سے بھیجے گئے اس خط میں یہ واضح نہیں ہے کہ اشوک کھرات معاملےسے سونیترا پوار کا کیا تعلق ہے اور انہیں جان کا خطرہ کیوں ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ انہیں جن لوگوں سے خطرہ ہے ان میں روپالی چاکن کر کا نام لکھا گیا ہے۔ اس لئے پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ واقعی یہ خط پولیس کا اطلاع دینے کیلئے لکھا گیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد ہے؟ کہیں کسی نے تفتیش کو متاثر کرنے کیلئے جعلی خط تو نہیںبھیجا ہے؟ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے پونے میںمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پولیس سونیترا پوار کے تحفظ کا خیال رکھے گی۔ پولیس نے اس سے قبل بھی عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونیترا پوار کے تعلق سے جو خط آیا ہے اس کی ہر طرح سے جانچ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست میں درجہ ٔ حرارت پھر بڑھنے لگا، شدید گرمی
اس دوران سماجی کارکن انجلی دمانیا نے کہا کہ اشوک کھرات کا معاملہ اب محض ایک دھوکہ دہی کی تفتیش تک محدود نہیں رہ گیا بلکہ اس کے وسیع سیاسی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اشوک کھرات کے پاس ایسی اہم معلومات موجود ہو سکتی ہیں جو منظر عام پر آنے کی صورت میں بااثر افراد کو مشکل میں ڈال سکتی ہیں۔ لہٰذا اس کیس کو دبانے کیلئے کھرات کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ دمانیا نے مطالبہ کیا کہ اشوک کھرات کو فوری طور پر مضبوط سیکوریٹی فراہم کی جائے تاکہ تفتیش متاثر نہ ہو۔ مزید برآں، انجلی دمانیہ نے سوال کیا کہ نام نہاد جعلی باباؤں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کیلئے عملی اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے۔ فی الحال یہ معاملہ ایک عام فوجداری کیس سے آگے بڑھ کر سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ سب کی نگاہیں ایس آئی ٹی کی جانچ پر ہے۔