Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کی ٹاپ ۱۰۰؍ کمپنیوں میں ہندوستان کی ایک بھی کمپنی نہیں

Updated: May 22, 2026, 9:58 AM IST | Mumbai

ملک کی معاشی صورتحال کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت دباؤ میں ہے اور اس کے اثرات صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں صاف نظر آرہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ملک کی معاشی صورتحال کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت دباؤ میں ہے اور اس کے اثرات صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں صاف نظر آرہے ہیں۔کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کی ٹاپ ۱۰۰؍کمپنیوں میں اب ہندوستان کی ایک بھی کمپنی شامل نہیں ہے۔ پارٹی کے مطابق ہندوستانی شیئر بازار سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوا ہے اور بڑے بیرونی سرمایہ کار مسلسل اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق کل تک کم از کم ۴؍کمپنیاں دنیا کی ٹاپ ۱۰۰؍ کمپنیوں کی فہرست میں شامل تھیں لیکن اب سرمایہ کاروں کا بھروسہ کم ہورہا ہے جس کا اثر روزگار، صنعت اور معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کمپنیوں کی امیج پر بھی پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اِمپورٹ کم کرنے کیلئے ٹیکس میں اضافہ کی تیاری

کانگریس پارٹی نے حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ کانگریس کے مطابق اگر وقت رہتے ضروری اقدامات کئے جاتے تو معیشت کو موجودہ چیلنجز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ بے روزگاری میں اضافہ،صنعتوں کی مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں میں سستی ملک کیلئے تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی معاملے پر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کا منفی اثر مختلف شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ، تجارت، ٹیکسٹائل، صحت، نقل و حمل، سروس سیکٹر اور چھوٹے کاروبار متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بازار میں مانگ میں کمی نے عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹے دکانداروں اور مقامی کاروباروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لئے مؤثر معاشی اقدامات ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: صرف پانچ ریاستیں ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً۵۰؍ فیصد حصہ ڈالتی ہیں

اپوزیشن کے ان الزامات کے درمیان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو لے کر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK