Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلام ہسٹری اطلس: تقریباً ۱۳۰۰؍ سالہ اسلامی تاریخ ایک ڈجیٹل نقشے میں یکجا

Updated: August 27, 2026, 10:10 PM IST | Istanbul

اسلامی تاریخ کے تقریباً ۱۳۰۰؍ سال کو ایک انٹرایکٹو نقشے پر یکجا کرنے والا ’’اسلام ہسٹری اطلس‘‘ متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ۶۳۲ء سے ۱۹۲۴ء تک کی ۱۸۶؍ اسلامی سلطنتوں، ۸۳۰؍ حکمرانوں، علما، شہروں، تاریخی مراکز، سفرناموں اور اہم واقعات کا ڈیٹا شامل ہے۔ ترکیہ میں تیار کیا گیا یہ اوپن سورس پلیٹ فارم تاریخ اور جغرافیے کو ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

’’اسلام ہسٹری اطلس‘‘ ایک ایسا ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو جغرافیہ، سلطنتوں، علما، شہروں اور تاریخی واقعات کے ذریعے تقریباً ۱۳۰۰؍ سالہ اسلامی تاریخ کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ islamicatlas.org پر دستیاب یہ انٹرایکٹو پلیٹ فارم تاریخ اور جغرافیہ کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ ۶۳۲ء سے ۱۹۲۴ء تک کی اسلامی دنیا کا احاطہ کرنے والا یہ اطلس مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو ایک ہی نقشے پر یکجا کرتا ہے۔ ٹائم لائن اور متعدد تہوں کے ذریعے صارفین اسلامی دنیا میں قائم ہونے والی سلطنتوں، ان کے حکمرانوں، علما اور تاریخی مراکز کو ان کے متعلقہ ادوار اور جغرافیائی مقامات کے مطابق دیکھ سکتے ہیں۔ اطلس کے موجودہ ورژن میں ۱۸۶؍ اسلامی سلطنتوں اور ۸۳۰؍ حکمرانوں کا جامع ڈیٹا شامل ہے۔ اس کے علاوہ خیرالدین الزرکلی کی کتاب ’’الاعلام‘‘ سے ۱۳؍ ہزار ۹۴۰؍ سوانحی ریکارڈ، ترکی کی دینی فاؤنڈیشن (TDV) کے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام سے ۸؍ ہزار ۵۲۸؍ علما کے سوانحی ریکارڈ اور یاقوت الحموی کی ’’معجم البلدان‘‘ سے ۱۲؍ ہزار ۹۵۴؍ جغرافیائی ریکارڈ بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اطلس میں ۳؍ ہزار ۴۵۸؍ سکوں کے مراکز، مقدسی کی جانب سے شناخت کی گئی ۲؍ ہزار ۴۹؍ آبادیوں، ابن بطوطہ کے ۳۱۷؍ پڑاؤ، اولیا چلبی کے ۵؍ ہزار ۴۴۴؍ پڑاؤ اور ۸۰۱؍ تعمیراتی ڈھانچوں کے ریکارڈ بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۱۶۱۱ء میں تعمیر ۳۶۰؍ ٹن وزنی ہیروساکی کیسل کو ۱۸۰۰؍ منتخب افراد نے کھینچا

تیاری کا عمل

انادولو نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے سلجوق یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیالوجی کے شعبہ اسلامی تاریخ کے رکن اور اس پلیٹ فارم کے خالق حسین گوکالپ نے بتایا کہ انہوں نے ترک امام خطیب فاؤنڈیشن (TIMAV) کے تحت TIMAV ڈجیٹل ہیومینیٹیز سینٹر قائم کیا ہے، جسے T-CORPUS کہا جاتا ہے۔ ’’اسلام ہسٹری اطلس‘‘ اس مرکز کا پہلا منصوبہ ہے۔ گوکالپ نے بتایا کہ اطلس کی تیاری میں ایک بڑی ٹیم نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا، ’’اسلام ہسٹری اطلس کے بعد ’اطلس آف اسلامک ہسٹو ریئوگرافی‘ بھی آ رہا ہے۔ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جس کا ہم بہت جلد اعلان کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیم نے یورپی یونین کے دو منصوبے اور  TUBITAK   ۱۰۰۱؍ کے دو منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔ ان کے بقول TIMAV ڈجیٹل ہیومینیٹیز سینٹر کے طریقۂ کار کو اپنے شعبے میں شامل کرکے وہ اپنے کام کی تعداد اور معیار دونوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گوکالپ کے مطابق اسلامی تاریخ اطلس ان کی پہلی عملی کاوش تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی ابتدائی بنیاد برطانوی مورخ کلفورڈ ایڈمنڈ بوس ورتھ کی کتاب ’’دی نیو اسلامک ڈائنسٹیز‘‘ پر رکھی گئی، جس میں اسلامی دنیا پر حکمرانی کرنے والی ۱۸۶؍ سلطنتوں اور ان کے خاندانی سلسلوں کا تاریخی ترتیب سے جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس کتاب کو ڈجیٹل ماحول میں منتقل کیا تاکہ ۶۳۲ء سے ۱۹۲۴ء تک کی سلطنتوں کو نقشے پر جامع انداز میں دکھایا جا سکے۔‘‘ گوکالپ نے مزید کہا کہ منصوبے میں ۱۸۶؍ اسلامی سلطنتوں کے ۸۳۰؍ حکمران شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ پلیٹ فارم ’’مسلم سلطنتوں کے اطلس‘‘ کے طور پر تیار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں سفری روایات، شہروں اور جنگوں سمیت مختلف ڈیٹا سیٹس شامل کیے گئے۔ ان کے مطابق مختلف ذرائع میں موجود مماثلتوں اور اختلافات کا موازنہ کرکے ان کے درمیان تعلقات سامنے لائے گئے، جس کے نتیجے میں اطلس محض ایک نقشے کے بجائے ایک ڈجیٹل ہیومینیٹیز منصوبے میں تبدیل ہوگیا جو باہمی تعلقات کے نیٹ ورک کو نمایاں کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خفیہ فلم بندی تنازع کے بعد میٹا اسمارٹ گلاسیز کیلئے ’کِل سوئچ‘ پر غور

کثیر سطحی نیٹ ورک

گوکالپ نے اطلس میں موجود باہمی تعلقات کے نیٹ ورک کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’مثلاً جب ہم کسی عالم، حکمران یا سپہ سالار کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوتا ہے کہ انہوں نے کن لوگوں کے ساتھ نیٹ ورک قائم کیا، کن افراد سے ملاقات ہوئی اور ان کے استاد و شاگرد، پیش رو و جانشین یا خاندانی تعلقات کیا تھے۔‘‘ ان کے مطابق یہ خصوصیت تاریخ اور علومِ انسانی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا اطلس تیار کیا ہے جو باہم جڑے ہوئے کثیر سطحی نیٹ ورک قائم کرتا ہے اور ڈیٹا کو آسانی سے پراسیس کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پلیٹ فارم پر صارفین کے لیے رائے دینے کا سیکشن بھی موجود ہے اور محققین و ماہرین کی تجاویز کی بنیاد پر اسے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ٹیم اس پلیٹ فارم کو موبائل ایپلی کیشن میں تبدیل کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ گوکالپ نے کہا کہ ان کا کام صرف پہلے سے موجود تاریخی معلومات کو نقشے پر دکھانے تک محدود نہیں بلکہ ڈجیٹل ہیومینیٹیز کے طریقوں سے متبادل تاریخی امکانات کا جائزہ لینا بھی اس کا حصہ ہے۔ اسی سلسلے میں وہ ’’فرنٹیئرز‘‘ نامی ایک بین الاقوامی منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس میں اسلامی علاقوں اور ابتدائی بازنطینی سرحدوں کے درمیان سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت اور انتظامی ڈھانچوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں جرمنی، امریکا، برطانیہ اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی ٹیم شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں کہ مختلف حالات میں تاریخی واقعات کس طرح رونما ہوسکتے تھے۔ انہوں نے اس عمل کو انجینئرنگ میں مختلف ورژنز کی آزمائش سے تشبیہ دی۔ مثلاً ٹیم یہ جائزہ لے رہی ہے کہ اگر کوئی جنگ کسی مختلف جغرافیائی مقام یا مختلف موسمی حالات میں لڑی جاتی تو اس کا نتیجہ کس طرح تبدیل ہوسکتا تھا۔ گوکالپ نے بتایا کہ ان میں سے بعض منصوبے TUBITAK کو پیش کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطالعے کا ایک اور شعبہ اسلامی فکر کی تاریخ ہے، جس میں ڈجیٹل طریقوں سے اسلامی مفکرین کے استدلال کے طریقوں اور مختلف ادوار کے علما کے ساتھ ان کے فکری روابط کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سانپ کاٹنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے مقام پر، ہر سال ۱۳؍ لاکھ معاملے

اوپن سورس منصوبہ

سلجوق یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ٹیکنالوجی کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر علی چیتن کایا نے بتایا کہ اطلس کو توقع سے کہیں زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم اس کام کو ورژن ون تصور کریں تو ہم اس کا دوسرا ورژن کہیں زیادہ وسیع شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق دوسرے ورژن کے لیے جانچ اور ڈیٹا سے متعلق کام جاری ہے اور ٹیم اسے جلد از جلد لانچ کرنے کی امید رکھتی ہے۔ چیتن کایا نے بتایا کہ بین الاقوامی OpenITI منصوبہ اطلس کے اہم اجزا میں شامل ہے۔ اس کے ذریعے کتابوں کے سادہ متن کو ایسے منظم ڈیٹا میں تبدیل کیا جاتا ہے جسے مختلف پروگرامنگ زبانوں اور پلیٹ فارمز پر استعمال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ورژن میں ناموں اور مقامات کی درست شناخت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مثلاً کسی کتاب میں ’’ابو بکر‘‘ کا نام آیا ہو تو یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اس سے مراد خود ابو بکر ہیں یا کوئی اور شخصیت۔ اسی طرح کسی تاریخی مقام کے نام کو موجودہ دور کے کس جغرافیائی مقام سے منسلک کیا جائے، یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ٹیم زیادہ بہتر، درست اور جامع ڈیٹا فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انتونیو غطریس نے غزہ اور سوڈان میں قحط کی تصدیق کو ’شرمناک سنگِ میل‘ قرار دیا

چیتن کایا نے بتایا کہ اطلس مکمل طور پر اوپن سورس منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر محققین ہمارا ڈیٹا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہ اسے ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق پہلے ہی متعدد پراسیس شدہ اور باہم مربوط ڈیٹا سیٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محققین ان ڈیٹا سیٹس کے ذریعے مختلف نتائج اخذ کرسکتے ہیں، جس سے نئی علمی تحقیق کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اطلس کو اسکولوں، ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بالخصوص تاریخ کی تعلیم کے لیے تدریسی مواد کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چیتن کایا نے کہا کہ ویب سائٹ ابتدا میں قدرے پیچیدہ محسوس ہوسکتی ہے، لیکن کچھ وقت گزارنے کے بعد یہ ایک دلچسپ پلیٹ فارم بن جاتی ہے جو صارفین کے سامنے مختلف زاویے اور نئے نقطۂ نظر کھول سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پلیٹ فارم ترکی، عربی اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہے اور مختلف ممالک کے صارفین کی جانب سے بھی اسے نمایاں دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK