Updated: September 23, 2026, 10:01 PM IST
| Washington
اسرائیل امریکہ کا نیا ایران بن سکتا ہے ،اسرائیل اس امکان پر خوفزدہ ہے کہ امریکہ بھی یورپ کے بعد پابندیاں عائد کر سکتا ہے، ایف ڈی ڈی کے سی ای او مارک ڈوبووٹز، جو امریکہ کے اندر ’’اسرائیلی تھنک ٹینک‘‘ کے نام سے مشہور ہے، نے کہا کہ۲۰۲۹ء میں عہدہ سنبھالنے والا امریکی صدر اسرائیل پر ایران جیسی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔۔ تصویر: آئی این این
اسرائیل امریکہ کا نیا ایران بن سکتا ہے ،اسرائیل اس امکان پر خوفزدہ ہے کہ امریکہ بھی یورپ کے بعد پابندیاں عائد کر سکتا ہے، ایف ڈی ڈی کے سی ای او مارک ڈوبووٹز، جو امریکہ کے اندر ’’اسرائیلی تھنک ٹینک‘‘ کے نام سے مشہور ہے، نے کہا کہ۲۰۲۹ء میں عہدہ سنبھالنے والا امریکی صدر اسرائیل پر ایران جیسی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ اسرائیل کو اندر سے امریکہ پر مؤثر قبضے کی حکمت عملی تجویز کرتے ہوئے ڈوبووٹز نے مزید کہا کہ ’’ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی انضمام اس حد تک گہرا کرنا چاہیے کہ اسرائیل کو مالی نقصان پہنچانے کا واشنگٹن پر بھی بھاری اثر پڑے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان، ’ٹرمپ ٹی وی‘ بنایا گیا
’’اسرائیل کو مالی جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون، جو واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (ایف ڈی ڈی) کے سی ای او مارک ڈوبووٹز نے لکھا ہے، نے امریکہ میں فلسطین کے لیے بڑھتی عوامی حمایت کے حوالے سے اسرائیل اور اس سے وابستہ صیہونی گروہوں کے خوف اور اس رجحان کے مقابلے کے لیے امریکہ کو بحران میں گھسیٹنے کے ان کے منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بعد ازاں مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی عوام میں اسرائیل کے خلاف ردعمل دن بہ دن شدت اختیار کر رہا ہے اور۲۰۲۸ء کے صدارتی انتخابات کے بعد اسرائیل پر ایران جیسی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں اس میں دلیل دی گئی ہے کہ قابض طاقت اور اس کے حامیوں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ڈوبووٹز کے بیان کردہ اقدامات میں سب سے نمایاں تجویز اسرائیل کے امریکی اداروں میں ’’انضمام‘‘ کو گہرا کرنے کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ امن بورڈ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل غزہ کے اہداف کا اعادہ
امریکی رائے عامہ میں فلسطینیوں کے حق میں ہمدردی میں اضافہ
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں پر عائد پابندیوں کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے ڈوبووٹز نے لکھا کہ۲۰۲۹ء کے بعد واشنگٹن میں اسرائیل کا اثر و رسوخ کمزور ہونے پر مزید سخت فیصلے آ سکتے ہیں۔ ڈوبووٹز نے لکھا، ’’اسرائیل کا سیاسی تحفظ بھی کمزور ہو رہا ہے۔ امریکہ کے سرکردہ سیاست دان خود کو اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے میں زیادہ آزاد محسوس کر رہے ہیں،‘‘انہوں نے مزید کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اب زیادہ امریکی اسرائیلیوں کے مقابلے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا، ’’یہ صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں۵۰؍ سال سے کم عمر کے۵۷؍ فیصد ریپبلکن اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔‘‘
مالی جنگ کے لیے بنایا گیا ڈھانچہ
علاوہ ازیں مضمون میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے خطرے کو ٹالنے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ ان میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اسرائیل مالی جنگ کے لیے ایک مخصوص ڈھانچہ قائم کرے،خاص طور پر ایک ’’بین الادارہ اقتصادی سلامتی ٹیم ‘‘جو نجی شعبے کی شرکت کے ساتھ مسلسل کام کرے۔اس ٹیم کو مالی جنگی مشقیں کرنے، خطرات کی نگرانی اور جوابی اقدامات کی تیاری کا کام سونپا جائے گا۔ ساتھ ہی مالی جنگ کے لیے مخصوص ڈھانچے کی تجویز کے کالم میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے خطرے کو روکنے کے لیے کئی تجاویز دی گئیں۔ ڈوبووٹز نے لکھا، ’اسے ایک بین الادارہ اقتصادی سلامتی ٹیم بنانی چاہیے، جس میں نجی شعبے کی شرکت ہو، جو مسلسل کام کرے۔ اس ٹیم کو مالی جنگی مشقیں کرنی چاہئیں، خطرات کی نگرانی کرنی چاہیے اور جوابی اقدامات تیار کرنے چاہئیں۔‘‘ سفارشات میں اسرائیل کے لیے مالی جنگ کا مخصوص ڈھانچہ قائم کرنا بھی شامل تھا۔ڈوبووٹز کی سب سے نمایاں تجویز امریکہ اور اسرائیل کے درمیان انضمام کو گہرا کرنے پر مرکوز تھی۔ ڈوبووٹز نے لکھا، ’’اسے امریکی ریاستوں کے گورنروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں، جو واشنگٹن کا سیاسی ماحول بدلنے پر اہم ثابت ہو سکتے ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی فوجی، تکنیکی، انٹیلیجنس اور اقتصادی انضمام اس قدر گہرا کرنا چاہیے کہ اسرائیل کو مالی نقصان پہنچانے کا واشنگٹن پر بھی نمایاں بوجھ پڑے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں
دریں اثناء اس تجویز کو واشنگٹن کو براہ راست تل ابیب سے جوڑنے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا۔اسرائیل نواز لابی کو اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے متحرک ہونے کے لیے جانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ مئی میں امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے مالی سال۲۰۲۷ء کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ میں ایک شق ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے فوجی تعلقات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ ایوان کی آرمڈ سروسیزکمیٹی کے تیار کردہ مسودے میں ’’امریکہ-اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘‘ کے عنوان سے شق۲۲۴؍ دونوں ممالک کی فوجوں اور دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کو کہیں زیادہ ادارہ جاتی اور مستقل بنانے کا تصور پیش کرتی ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل لابی کا مقصد امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو سالانہ دی جانے والی فوجی امداد کو مستقل حیثیت دینا ہے جو کسی بھی پابندی کے فیصلے سے متاثر نہ ہو۔یاد رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ فوجی امداد معاہدے کے تحت واشنگٹن اسرائیل کو سالانہ تقریباً۳؍ اعشاریہ ۸؍ بلین ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔یہ ۱۰؍ سالہ معاہدہ۲۰۲۸ء میں ختم ہو رہا ہے۔
کیا ایران بھی منصوبے کا حصہ ہے؟
یہ بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بے بنیاد انٹیلیجنس رپورٹس استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنا اسرائیل لابی کی ایسی کارروائی ہو سکتی ہے جس کا مقصد واشنگٹن پر اخراجات ڈالنا اور اسرائیل کی حمایت برقرار رکھنا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ ایران جنگ کے پہلے مہینوں میں ایف ڈی ڈی کی اشاعتوں نے وہائٹ ہاؤس کی رہنمائی میں کردار ادا کیا۔ دریں اثنا، امریکی ویب سائٹ دی ہل کے مطابق، سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹک رکن جین شاہین نے اسرائیل کو۲؍ اعشاریہ ۸؍ بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شاہین اور بعض ڈیموکریٹس نے نیتن یاہو کے ان حملوں پر مایوسی کا اظہار کیا جو غزہ میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا سبب بنے، شام پر ان کی بمباری، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنے والے اسرائیلیوں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی باعث تشویش رہے۔ اس کے علاوہ اسلحے کی فروخت پر بھی خدشات ظاہر کئے گئے ، جس میں۴۰؍ ہزار ایک ٹن کے بم شامل بتائے گئے جو غزہ کی پٹی میں بڑی تعداد میں فلسطینی اموات میں کردار ادا کر سکتے تھے۔